چینی کی درآمد کافیصلہ بدترین معاشی مثال ہے،  میر کبیرمحمدشہی

چینی کی درآمد کافیصلہ بدترین معاشی مثال ہے، میر کبیرمحمدشہی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے حکومت پاکستان کی جانب سے پہلے برآمد کی گئی چینی کو دوبارہ مہنگے داموں عالمی منڈی سے خریدنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے معاشی نااہلی اور عوامی استحصال کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ملکی تاریخ میں ایک ایسا منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے جس کے تحت پہلے ملک میں چینی کی وافر مقدار کا جواز پیش کرکے اسے بیرون ملک برآمد کیا گیا مل مالکان اور غیر ملکی تاجروں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا اور بعدازاں ملک میں بحران پیدا ہونے پر وہی چینی مہنگے داموں دوبارہ درآمد کی جارہی ہے۔میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ حکومت کی اس پالیسی کا خمیازہ براہِ راست غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پہلے ملک کی سستی چینی باہر بھیجی گئی اور اب اسے مہنگے داموں واپس لاکر عوام کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ سازوں کے پاس کوئی مو¿ثر معاشی حکمت عملی موجود نہیں۔ جو ملک اپنی پیداوار کو سنبھالنے کے بجائے اسے منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، اس کی معاشی پالیسیوں پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ چینی کی برآمد اور دوبارہ درآمد کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ اس پورے عمل میں کن افراد یا اداروں نے اربوں روپے کا فائدہ حاصل کیا۔نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ نیشنل پارٹی عوام کے معاشی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور حکمرانوں کی ایسی عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے