اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر بات نہیں ہوئی ، ڈاکٹر طارق فضل

اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر بات نہیں ہوئی ، ڈاکٹر طارق فضل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز زیر غور نہیں آئی اور نہ ہی اسلام آباد بند ہونے جا رہا ہے۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں تبادلہ خیال نہیں ہوا اور نہ ایسی کوئی بات میرے علم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات پر بحث ہوئی ہے اور تین مہینوں کے لیے تھری ویلر، 800 سی سی گاڑی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تمام عوامی نمائندوں کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو آگاہی فراہم کریں۔ قبل ازیں نجی میڈیا کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حکومتی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور قومی اخراجات میں کمی لانے کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کی تجویز زیرغور ہے، جس کا اطلاق سرکاری اور نجی سطح پر دفاتر اور تعلیمی اداروں پر ہوگا۔ ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا تھا کہ حکام نے تمام متعلقہ محکموں کو نئے شیڈول کی تیاری اور ضابطہ کار وضع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، نئے نظام میں چند عملے کو دفتری حاضری جبکہ دیگر کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی جائے گی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ اسلام آباد بند ہونے نہیں جا رہا لیکن ستمبر کے مہینے میں تین مارچز کی باتیں ہو رہی ہیں، سب سے زیادہ پرتشدد اور انتشار سے بھرا مارچ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تحت انتظامیہ کو ہدایات ہیں کہ شہریوں کی آمد و رفت کو بحال رکھنا ہے، عوامی مقامات پر کسی بھی جماعت کے لیڈرز کو قبضہ نہیں کرنے دینا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے