پاک افغان سرحدی آمد و رفت سے وائرس کی منتقلی کا خدشہ، عالمی ادارہ صحت کا جنوبی کے پی، کراچی اور کوئٹہ بلاک میں انسداد پولیو اقدامات کا مطالبہ

پاک افغان سرحدی آمد و رفت سے وائرس کی منتقلی کا خدشہ، عالمی ادارہ صحت کا جنوبی کے پی، کراچی اور کوئٹہ بلاک میں انسداد پولیو اقدامات کا مطالبہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت نے پاکستان سے پولیو وائرس کے عالمی پھیلاو¿ کے خطرے کے پیش نظر عائد عارضی سفری پابندیوں میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی۔ ڈبلیو ایچ او کی پولیو ایمرجنسی کمیٹی نے پاکستان میں پولیو کی صورتحال، وائرس کی منتقلی اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے عالمی سطح پر وائرس کے پھیلاو¿ کے خطرے کو بدستور برقرار قرار دیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلاو¿ تاحال تشویش کا باعث ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آبادی کی نقل و حرکت وائرس کی سرحد پار منتقلی کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔ عالمی ادارے نے پاکستان اور افغانستان کو پولیو کے حوالے سے ایک ہی وبائی خطے کے طور پر قرار دیتے ہوئے سرحدی علاقوں میں مربوط انسداد پولیو اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس کے 57 مثبت ماحولیاتی نمونے رپورٹ ہوئے ہیں۔ جنوبی خیبرپختونخوا، کراچی اور کوئٹہ بلاک سمیت اہم علاقوں میں وائرس کی موجودگی کے باعث مو¿ثر نگرانی، ویکسی نیشن اور ایسے بچوں تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جو پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق جنوبی خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی اور رسائی کے مسائل کے باعث تقریباً ڈھائی لاکھ بچے پولیو ویکسین سے محروم ہیں، جبکہ ویکسین سے انکار بھی انسداد پولیو مہم کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ عالمی ادارے نے وسطی پاکستان، جنوبی خیبرپختونخوا اور کوئٹہ بلاک میں انسداد پولیو مہم کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے پولیو ویکسی نیشن اور اس کے سرٹیفکیٹ سے متعلق عارضی سفارشات برقرار رہیں گی، جبکہ سرحدی آمد و رفت کے دوران مسافروں اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادی کو پولیو ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے