بلوچستان میں معدنیات، توانائی، زراعت، سیاحت اور بلیواکانومی کے وسیع امکانات ہیں، جعفرخان مندوخیل

بلوچستان میں معدنیات، توانائی، زراعت، سیاحت اور بلیواکانومی کے وسیع امکانات ہیں، جعفرخان مندوخیل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اکیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اس ورکشاپ میں آپ نے ماہرین کے علم، تجربے اور بصیرت سے بھرپور استفادہ کیا ہوگا اور باہمی مکالمے اور مشاورت کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کو درپیش اہم چیلنجز کا بہتر ادراک حاصل کیا ہوگا لہٰذا اب اس اجتماعی دانش کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہی اس ورکشاپ کی حقیقی کامیابی ہوگی میں 21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے منتظمین اور تمام معزز شرکاءکو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس ورکشاپ کے فکری مباحث اور کورس بلوچستان اور پاکستان کی پائیدار ترقی کیلئے عملی رہنمائی فراہم کریگی اس موقع پر بریگیڈئیر خاقان سرور بھی موجود تھے گورنرنے کہا کہ آج جب آپ اس ورکشاپ سے واپس جائیں گے تو آپ کی ذمہ داریاں ختم نہیں بلکہ مزید بڑھ چکی ہیں آپ سے توقع ہے کہ یہاں حاصل ہونے والے علم، تجربے اور بصیرت کو اپنے اپنے ادارے، شعبے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کیلئے استعمال کرینگے۔ ہمیں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار اور ہنرمندی کے مواقع پیدا کرنے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سماجی انصاف کو مضبوط بنانے اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ گورنرنے کہا کہ بلوچستان پاکستان کو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے خطوں سے جوڑنے کی جغرافیائی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوادر اور دیگر ساحلی علاقوں سے لے کر معدنی اور زرعی خطوں تک، صوبے کے مختلف حصے پاکستان کی معاشی ترقی اور خطے کی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی صرف ایک صوبے کی ترقی نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی اور قومی ترقی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنے وسیع رقبے، منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، طویل ساحلی پٹی، قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر کے باعث پاکستان میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صوبے میں بلیو اکانومی، معدنیات، توانائی، زراعت، سیاحت اور ریجنل تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایسے علمی و فکری اجتماعات محض معلومات کے تبادلے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ مختلف شعبوں کے تجربات، خیالات اور نقط نظر کو یکجا کرکے قومی مسائل کے حل کیلئے نئی سوچ اور قابلِ عمل راستوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اکیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب کے شرکاءمیں اسناد اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیے گئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے