صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا رواں سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کو سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنا بند کردے گا تاہم اسرائیل امریکی ہتھیار خرید سکے گا۔ اس بات کا اعلان صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے درمیان اس معاملے پر اتفاق ہوگیا ہے اور دونوں کئی برس سے اس حوالے سے بات چیت کررہے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بقول نیتن یاہو نے خود امداد ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اب اسے امریکی مالی مدد نہیں لینی چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر اسرائیل کو ضرورت پڑی تو امریکا پھر سے اس کی مدد کرے گا اور وہ امریکی ہتھیار خریدنے کے لیے بھی آزاد ہوگا۔ دوسری جانب ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اعلان موجودہ معاہدے کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان 2016 میں طے پانے والے دس سالہ مفاہمتی معاہدے کے تحت اسرائیل کو سالانہ 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پہلے بھی امریکی امداد پر انحصار بتدریج ختم کرنے کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں تاہم ان کا منصوبہ آئندہ ایک دہائی میں اس مقصد کے حصول کا تھا۔ واضح رہے کہ غزہ اور ایران پر بے رحمانہ فوجی کارروائیوں پر اسرائیل کی مدد کرنے پر صدر ٹرمپ کو امریکی ووٹرز کی مخالفت کا سامنا ہے اور الیکشن سے کچھ دیر قبل اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا اعلان کرکے وہ ہمدردی سمیٹنا چاہتے ہیں۔






