کوئٹہ پیکج کے کاموں کو دیکھنے کیلئے دورے کرینگے ‘ اختر حسین لانگو

کوئٹہ پیکج کے کاموں کو دیکھنے کیلئے دورے کرینگے ‘ اختر حسین لانگو

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: چیئرمین پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی اختر حسین لانگو کی زیر صدارت منعقد ہوا ااجلاس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی آڈٹ رپورٹ اور کمپلائنس 2017-18کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمےٹی کے اراکین ملک نصیر شاہوانی، اسداللہ بلوچ اور نصراللہ زیرے کے علاوہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈپٹی سیکرٹری پی اے سی سراج الدین لہڑی، چیف اکاونٹ آفیسر پی اے سی ادریس آغا، ڈی جی آڈٹ غلام سرور مندوخیل، کمشنر مکران ڈویژن طارق قمر، اسپیشل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو عبدالطیف کاکڑ نے شرکت کی۔ کمیٹی نے سال 2017-18کے مختلف پیپرز کا معائنہ، مالی سال2017-18 کے اکاو¿نٹس کے تحصیص اور پچھلی آڈٹ رپورٹ کی تعمیل پر غور وخوص کیا۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور آڈیٹر جنرل بلوچستان کے ڈی اے سی کے میٹنگ کے بعد کئی ایک پیراز سیٹل کئے گئے۔ اجلاس کے دوران چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ اسپیشل ڈی اے سی کی میٹنگ کے بعد محکمہ اپنے پیراز پر دوبارہ کنٹیسٹ نہیں کر سکتا یہاں بحث کرنے کی بجائے اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کو پہلے زیر بحث لائے اگر ڈی اے سی اور آڈٹ ریکوری کا کہتے ہو تو ہم کسی بھی پیرا کو ریکوری کے بغیر سیٹل نہیں کر سکتے جب محکمہ کو ایک موقع دیا جاتا ہے تو ضروری کاغذات کی تصدیق اور دیگر ضروری ریکارڈ ڈی اے سی میں پیش کرے۔ چےئرمین پی اے سی نے کئی پیراز پر آڈیٹر جنرل کو فیلڈ ویری فیکیشن کی ہدایت کی اور کہا کہ فیلڈ پر پراجیکٹس کی ویریفیکیشن کر کے رپورٹ پی اے سی کو جمع کروادیں۔اجلاس کے دوران چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے سی اینڈ ڈبلیو کے کسی بھی پراجیکٹ کو پانچ سال کے عرصے میں مکمل ہونا ہے لیکن ہمیں دس سال پرانے پراجیکٹس اب تک نامکمل دیکھائی دے رہے ہیںجو کہ قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے محکمہ پی اینڈ ڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر میں اسوقت 350 ٹیوب ویل ناکارہ ہیں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ان ٹیوب ویلز سے عوام مستفید نہیں ہو رہے۔ انھوں نے کہا کہ پی اینڈ ڈی ڈرلنگ اور کیسنگز کے لئے پیسے مختص کرتا ہے لیکن ٹیوب ویل کو چلانے کے لئے لیکن اسکی بجلی، ٹرانسفارمر یا عوام کے گھروں تک پانی پہنچانے کے لئے پائپ کے لئے پیسے مختص نہیں کئے جاتے ہیں صرف زمین کو سراخ کرنا واٹر سپلائی نہیں کہلاتی چیئرمین پی اے سی نے ہدایت دی کہ پی اینڈ ڈی کے ساتھ ایک نشست رکھی جائے گی جسمیں ان مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔اجلاس میں سٹی ڈوپلمنٹ پراجیکٹ تربت بھی زیر بحث رہا، کمشنر مکران طارق قمر نے تربت پراجیکٹ سے متعلق پیراز پر کمیٹی کو جواب دئیے۔ دوران اجلاس ممبران نے سوال کیا کہ تربت پراجیکٹ کے لئے ہائیر ریٹس کا مطالبہ غیر قانونی ہے، سیکیورٹی کے نام پر اسپیشل ریٹس کا مطالبہ غیر قانونی ہے اگر سکیورٹی کو ہی دیکھا جائے تو پورا بلوچستان کمپنیوں کو ہائیر ریٹس پر پراجیکٹس دئیے جائیں جب پورے بلوچستان میں ریٹ ایک ہو تو ایک خاص علاقے میں ٹھیکداروں کو کیوں نوازا جاتا ہے۔ چیئرمین نے تربت کے پیراز پر سیکرٹری پی اینڈ ڈی کو پی اے سی کمیٹی میں حاضر ہونے کی ہدایت کر دی۔ممبران پی اے سی نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ وہ فورم ہے جسکے فیصلے کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں ہو سکتے ہم یہاں ذمہ داری کے ساتھ عوام کے پیسوں کا دفاع کر ینگے انھوں نے کچھ پیراز پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو مختلف ٹھیکیداروں سے ریکوری کی ہدایت کی کوئٹہ پیکج کے حوالے سے ممبران کمیٹی نے کہا کہ کوئٹہ پیکج میں کئی ایک منصوبوں کو نامکمل چھوڑا گیا ہے، کوئٹہ شہر کی سڑکوں اور نالیوں کو ہر سال توڑا اور پھر بنایا جاتا ہے، ناقص کام کی وجہ سے یہ کام ہر سال جاری رہتا ہے, نامکمل کاموں کی وجہ سے نکاسی آب کی وجہ سے عوام مختلف بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں۔ چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ کوئٹہ پیکج کو دیکھنے کے لئے ممبران کمیٹی پیکج کا دورہ کرینگے اور دیکھیں کہ کوئٹہ پیکج کے نام پر کتنا کام کیا گیا ہے۔کمیٹی کا اجلاس کا ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہا جبکہ اجلاس آج بھی جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!