آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ پر صحافی احمد نورانی کے الزامات، عاصم باجوہ کی تردید

آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ پر صحافی احمد نورانی کے الزامات، عاصم باجوہ کی تردید

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ کی تردید کی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ اب وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ انھوں نے اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔’ گذشتہ ماہ جب حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کی تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کا خوب چرچا ہوا۔ ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ اور بعد میں فوج کے سدرن کمانڈ کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ، جو کہ اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں، کے اثاثہ جات پر کڑی تنقید کی گئی۔ مگر جب 27 اگست کو صحافی احمد نورانی کی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں ایک رپورٹ ‘فیکٹ فوکس’ نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تو سوالات اور تنقید کا ایک ایسا پنڈورا باکس کھل گیا اور ٹوئٹر پر مسلسل ‘عاصم باجوہ’ اور ‘باجوہ لیکس’ ٹرینڈ کر رہا تھا۔ صحافی احمد نورانی نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کے ‘خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔’ اپنی رپورٹ میں احمد نورانی نے عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق دعوے کیے ہیں جن میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ یہ جائیدادیں چار ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ احمد نورانی نے ایک نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ ‘عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقاعدہ ‘نہیں ہے‘ لکھا ہے
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جاری کیے گئے اثاثہ جات کی فہرست میں عاصم باجوہ نے اپنی اہلیہ کے نام پر ‘خاندانی کاروبار’ میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی اور اس حلف نامے کے آخر میں تصدیق کی کہ ‘میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔’ احمد نورانی کے مضمون میں ایک بڑا دعوی یہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کاروباری کمپنیوں کے نظام کی نگرانی کرنے والے ادارے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نے ‘اپنی آفیشل ویب سائٹ سے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیتی کمپنیوں کا ڈیٹا غائب کرنا شروع کر دیا۔’ صحافی احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ سے عاصم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیت کے بارے میں معلومات اتوار پہلی اگست کو ہٹائی گئی تھیں جو کہ عید کی چھٹی تھی۔

احمد نورانی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ سے ان کی اہلیہ کی امریکہ میں جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ ‘انھوں اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن میں اپنی بیوی کے حوالے سے واضح طور یہ کیوں لکھا کہ ان کا پاکستان سے باہر کوئی کاروباری سرمایہ نہیں ہے تو جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے جواب دینے سے گریز کیا۔’ تاہم مضمون کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔’ جب بی بی سی نے احمد نورانی سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ‘میں صرف یہ کہوں گا مناسب طریقے سے جواب دینے کے لیے انھیں واضح کرنا ہوگا کہ میرے مضمون میں کون سے حقائق غلط ہیں اور انھیں اس کے لیے شواہد فراہم کرنے ہوں گے۔ احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ‘عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کا سنہ 2002 سے قبل مکمل ملکیت کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں تھا اور اسی سال وہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں لیفٹنٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہوئے اور پرویز مشرف کے سٹاف میں تعینات ہوئے۔’ احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ‘یہ تمام سلسلہ شروع کیسے ہوا اور ابتدائی سرمایہ کیسے لگایا گیا اور وہ رقم کہاں سے حاصل کی گئی اور تین ہفتوں تک جوابات کا انتظار کرنے کے باوجود عاصم سلیم باجوہ خاموش کیوں رہے۔’
مضمون کی اشاعت کے بعد جہاں ایک جانب سوالات کی بھرمار تھی اور سوشل میڈیا پر اس رپورٹ پر ٹرینڈز چل رہے تھے، تو دوسری طرف رات گئے فیکٹ فوکس کی ویب سائٹ تک کچھ دیر کے لیے رسائی بند ہو گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی سے تعلق رکھنے والی محقق رابعہ محمود نے بھی ٹوئٹر پر تبصرہ کیا کہ وہ فیکٹ فوکس کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہی ہیں۔ اس بابت احمد نورانی نے بی بی سی کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ کو پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے بند نہیں کیا بلکہ دعوی کیا کہ اس پر ‘ڈی ڈوس حملہ کیا جا رہا ہے ‘ جس کی وجہ سے صارفین اس مضمون کو پڑھ نہیں پا رہے۔ واضح رہے کہ ڈی ڈوس یعنی ڈینائیل آف سروس اٹیک ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس کی مدد سے کسی بھی ویب سائٹ پر ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں رسائی حاصل کرنے کا حملہ کیا جاتا ہے اور انٹرنیٹ ٹریفک بڑھ جانے کی وجہ سے وہ ویب سائٹ بیٹھ جاتی ہے۔ جب گذشتہ ماہ اثاثہ جات کی فہرست شائع ہوئی تھی تو اُس وقت عاصم سلیم باجوہ سے ان کی ‘ٹیوٹا زیڈ ایکس’ گاڑی کی قیمت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ اچھا ہے کہ آپ نے رپورٹ کی تردید کر دی لیکن عوامی عہدے پر فائز ہونے کے بعد ایک فقرے کی تردید کافی نہیں ہوگی۔’
عسکری امور کی تجزیہ نگار اور محقق عائشہ صدیقہ نے بھی عاصم باجوہ کی ٹویٹ کی جواب میں کہا کہ ‘جنرل صاحب، یہ بہت مناسب ہوگا اگر آپ دستاویزی ثبوت کے ساتھ الزامات کی تردید کریں۔ ایک جملے سے بات نہیں بنے گی۔ صارف ذیشان خان نیازی لکھتے ہیں کہ ‘بالکل غلط ہوگی سٹوری سر، آپ عدالت سے رجوع کریں اور اس جھوٹی سٹوری پر سزا دلوائیں۔تمام منی ٹریل مہیا کریں تاکہ یہ روز روز کے الزامات ختم ہوں۔’ اسی نوعیت کا تبصرہ ایک اور صارف شفیق احمد نے بھی کیا جو لکھتے ہیں کہ ‘باجوہ صاحب جس طرح احمد نورانی صاحب نے مکمل تفصیلات دیں ہیں تو آپ بھی اسی طرح ہر بات کا تفصیلاً جواب دیں تاکہ ہم بھی انکی غلط بیانی کی مذمت کرسکیں کیونکہ انھوں ایسے ہی تماشا بنایا ہوا ہے۔۔۔ صارف علی اظہر نے عاصم باجوہ کی تردیدی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ‘امریکہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات کے آڈٹرز اور حکام سے شفاف اور جامع تحقیقات کرائیں تاکہ یہ معاملہ ختم ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!