موٹروے زیادتی کیس ، پولیس نے متعدد مشتبہ افراد کوحراست میں لےلیا

موٹروے زیادتی کیس ، پولیس نے متعدد مشتبہ افراد کوحراست میں لےلیا

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لاہور: پولیس نے موٹروے پرخاتون سےاجتماعی زیادتی کے معاملے پرتحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کوگرفتار کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کی سربراہی میں ٹیمیں کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں اور اس دوران متعدد مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے ڈی این اے نمونے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ موٹروے پولیس کے مطابق یہ واقعہ موٹر وے کے احاطے میں نہیں ہوا تھا۔ سی سی پی او لاہورعمر شیخ کا کہنا تھا کہ ” تفتیش جاری ہے اور جلد ہی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب مجرموں نے ونڈو اسکرین توڑ دی تو وہ زخمی ہوگئے اور ان کا خون کار پر رہ گیا جس کےہم نے نمونے لئے ہیں۔ ہم نے متاثرین کے ڈی این اے نمونے بھی لئے ہیں ۔ فٹ ٹریکروں کی مدد سے ہم نے مجرموں کے پاؤں کے نشانات تلاش کرلئے ہیں۔ جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی مدد لی گئی ہے۔” اس سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹویٹ کیا کہ لاہورمبینہ زیادتی کے کے معاملے میں 12مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ لاہور میں خاتون کے ساتھ زیادتی کیس میں وزیراعلی ٰ پنجاب کی ہدایت پرسی سی اولاہور تفتیشی ٹیم کو لیڈ کررہے ہیں ۔ تفتیش میںاربن اوررورول پالیسنگ کی تکنیک استعمال کی جارہی ہے، کھوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج اورڈی این اے کی مدد سے تفتیش ہو رہی ہے۔ 12 کے قریب مشتبہ افراد گرفتار ہو چکے ہیں ۔ انشاللہ آپکو اپڈیٹ کرتے رہیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی آئی جی پنجاب انعام غنی سے رپورٹ طلب کرلی ہے ، قبل ازیں ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جب تک مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جاتا ہے پولیس بیکار نہیں بیٹھے گی۔ طاضح رہے کہ تھانہ گجرپورہ پولیس کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ جارہی تھی۔ راستے میں پٹرول ختم ہوا تو خاتون نے گاڑی کھڑی کردی۔ اس دوران دو نامعلوم افراد آئے اور خاتون کو بچوں سمیت قریبی کھیتوں میں لے گئے۔ ملزمان نے بچوں کے سامنے خاتون کا زیادتی کا نشانہ بنایا اورنقدی لے کر فرار ہوگئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!