اداروں کی شخصيات کا نام لينا ہم سب کی ناکامی ہے ، شاہد خاقان

اداروں کی شخصيات کا نام لينا ہم سب کی ناکامی ہے ، شاہد خاقان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

سابق وزيراعظم اور ن ليگ کے سينيئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جب ميں نے کہا خلائی مخلوق بيانيہ نہيں تو لوگ ناراض ہوگئے، اب خلائی مخلوق تو کيا شخصيات کا نام لے کر باتيں ہورہی ہيں، جو ملک کیئ بدنصيبي ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوريت کو خطرہ ہے، سول ملٹری تعلقات ميں اعتماد نہيں، صورتحال خطرناک ہے۔ سابق وزيراعظم نے پيشگوئی بھی کردی کہ مستقبل ميں فوج خود ايکسٹينشن کے قانون ميں تبدیلی کا مطالبہ کرے گی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے جلسوں میں سربراہ پاک فوج اور آئی ایس آئی چیف کے نام لے کر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اداروں کی شخصيات کا نام لينا ہم سب کی ناکامی ہے، ميں نے کہا خلائی مخلوق بيانيہ نہيں تو لوگ ناراض ہوگئے، خلائی مخلوق کيا اب تو نام لے کر بات ہورہی ہے جو ملک کی بدنصیبی ہے، پارليمنٹ ميں اداروں کو شرمندہ نہيں کرنا چاہئے، ادارے بھی ايسا کام نہ کريں جس سے ان کی عزت کم ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سول ملٹری تعلقات ميں باہمی اعتماد کی کمی ہے، اعتماد ختم ہوجائے تو مارشل لاء کا خطرہ ہوتا ہے، صورتحال خطرناک ہے، ايکسٹينشن اور جنرل قمر جاويد باجوہ کا تعلق نہيں، مستقبل ميں فوج خود ايکسٹينشن کے قانون ميں تبدیلی کی درخواست کریگی، ايکسٹينشن کے قانون سے ابہام پيدا ہوگيا، فوج کبھی ابہام کو ڈيل نہيں کرتی۔ شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ سابق سینیٹر پرويز رشيد کو وارننگ دی کہ ایف اے ٹی ایف پر ووٹ نہ ديا تو بطور نائب صدر ميرے پاس اختيارات ہيں۔ کراچی میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور آئی جی سندھ کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اچھا ہوا آئی جی نے مزاحمت نہیں کی، گولی چل جاتی تو کيا ہوتا؟، صفدر کی گرفتاری پر حکومت نے غير ذمہ داری دکھائی، نتيجہ اچھا نہيں ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!