مغوی خاتون ٹیچر 10 روز بعد بھی بازیاب نہ ہوسکی، اہل خانہ کی انصاف کی اپیل

مغوی خاتون ٹیچر 10 روز بعد بھی بازیاب نہ ہوسکی، اہل خانہ کی انصاف کی اپیل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ڈیرہ اسمٰعیل خان: ایک نجی اسکول کی خاتون ٹیچر جسے 10 روز قبل اغوا کیا گیا تھا اسے اب تک بازیاب نہیں کروایا جاسکا۔ یہ شکایت مذکورہ خاتون کے اہل خانہ کی جانب سے کی گئی۔ اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں اغوا ہونے والی نگہت شاہین کی بہن انیلا شاہین نے الزام لگایا کہ پولیس اغوا کاروں کا سراغ لگانے اور ان کی بہن کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی۔ انیلا شاہین نے اپنے والد فرید اور بھائی حکمت اللہ کے ساتھ مل کر الزام عائد کیا کہ عنایت اللہ نے 3 نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر ان کی بہن کو اس وقت اغوا کیا جب وہ اپنے کزن نقیب اللہ کے ساتھ وٹرسائیکل پر اسکول جارہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کے درج ہونے کے بعد پولیس نے عنایت اللہ کے والد عبداللہ جان کو گرفتار کیا لیکن اصل ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ دوران پریس کانفرنس ان کا کہنا تھا کہ ہم مجسٹریٹ سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ احتشام اور مسعود کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں کیونکہ یہ مرکزی ملزم کے ساتھی تھے تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک انہیں گرفتار نہیں کیا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے شکایتی سیلز میں شکایت بھی درج کروائی ہے اور ہم انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن ہمیں انصاف فراہم نہیں کیا جارہا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس پاکستان، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، گورنر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے اپیل کی کہ ان کی جلد بازیابی کو یقینی بنائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!