لاپتہ پروفیسر ڈاکٹرلیاقت سنی کو بازیاب کرنا حکومت کی زمہ داری ہے ،  نذیر بلوچ

لاپتہ پروفیسر ڈاکٹرلیاقت سنی کو بازیاب کرنا حکومت کی زمہ داری ہے ، نذیر بلوچ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نذیر بلوچ نےکہا ہے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسرز کا دن دھاڑے اغواء ہونا اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان میں کوئی بھی شہری اساتذہ کرام طلباء و دیگر مکاتب فکر مکمل طور پر غیر محفوظ ہے بلوچستان امن علم دانش قلم و شعور و قانون کی عمل داری سماج دشمن سرگرمیوں کے زریعے لاپتہ کئے گئے ہے پروفیسر شبیر شاہوانی اور نظام شاہوانی کو اغواء و تشدد کو بعد چھوڑا گیا لیکن پروفیسر لیاقت سنی تاحال لاپتہ ہے لاپتہ پروفیسر ڈاکٹرلیاقت سنی کو بازیاب کرنا حکومت کی زمہ داری ہے اگر لاپتہ پروفیسر کو کچھ ہوا تو زمہ دار صوبائی حکومت ہوگی انہوں نے مزید کہا ہے بلوچستان میں باشعور لوگوں کو ایک تو طاقت کے زریعے خاموش کرانے کی سازشوں کا سلسلہ جاری ہے ہزاروں کے تعداد میں بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا اب یہ سلسلہ سماج دشمن سرگرمیوں کے نام پر شروع ہوچکی لیکن ان تمام سازشوں کا مقصد صرف بلوچ سیاسی آواز علم و ادب و شعور کے راستے کو روکنا ہے بی ایس او ایسے سماج دشمن سازشوں ہتھکنڈوں کی مذمت کرتی ہے اس مشکل کڑی میں بی ایس او بلوچستان کے تمام اساتذہ کرام کے احتجاج میں شامل ہوکر بھروپور کردار ادا کرے جبکہ تمام نمائندہ طلباء تنظیموں سے ملکر احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا انسانی حقوق کے ادارے و عدلیہ لاپتہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کے بازیابی کےلئے کردار ادا کرے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!