پروفیسر لیاقت سنی کا اغواءقابل مذمت ‘ جلد بازیابی کو یقینی بنایا جائے ‘ بی این پی

پروفیسر لیاقت سنی کا اغواءقابل مذمت ‘ جلد بازیابی کو یقینی بنایا جائے ‘ بی این پی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں پروفیسر لیاقت سنی کے اغواءکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے اساتذہ اور اہل قلم بھی اب محفوظ نہیں لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے تھا مگر آج بھی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں یہ واقعہ قابل مذمت ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ اغواءکا واقعات کا مقصد معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کے ذریعہ اسے گردانہ جائے تو بے جا نہ ہو گا تین پروفیسرز کو اغواءکرنے اور دو کو چھوڑ کر ایک پروفیسر کو ساتھ لے جانے کا عمل کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طبقہ فکر کو تحفظ فراہم کریں اور ان کے جان و تحفظ کی ذمہ داری بھی ان کی اولین ترجیح ہونی چاہئے لیکن ایسا دکھائی نہیں دیتا ایسے واقعات سے یقینا بلوچستان کے حالات خراب ہوں گے بی این پی کے چھ نکات میں پہلا نقطہ یہ تھا کہ اہل قلم ‘ سیاسی ورکروں ‘ دانشوروں ‘ عوام کو لاپتہ کرنے کا عمل ختم اور لاپتہ افراد کو بازیاب ہونا چاہئے اسی لئے ہم نے ہر فورم پر اغواء‘ ماورائے عدالت قتل وغارت گری ‘ جبری طور پر غائب کرنے کا سلسلہ کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے بی این پی عوام کے تحفظ ‘ ناانصافیوں ‘ ناروا سلوک کے خاتمے ‘ انسانی حقوق کے پامالی کے خلاف آواز بلند کی ہے عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح سمجھتے ہیں سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں حقوق کے حصول ‘ ناانصافیوں کے خلاف اپنا سیاسی جمہوری کردار ادا کرتے رہیں گے پروفیسر لیاقت سنی کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!