کوئٹہ :صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمدبلیدی نے بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کو رد کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کی تبدیلی کسی کی خواہش ہوسکتی ہے تاہم مخلوط صوبائی حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی قیادت میں متحد ومستحکم ہے ،جمہوریت کی اصل روح اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی ہے لیکن18ویں ترمیم کے تحت وفاق سے منتقل ہونے والی اختیارات صوبائی دارالخلافہ تک محدود ہوگئی ہیں،گوادر سی پیک کا فلیگ شپ پروجیکٹ جس کے بغیر سی پیک نامکمل ہے ماضی کے حکمرانوں نے سی پیک معاہدوں میں بلوچستان کی موثر انداز میں نمائندگی نہیں کی ،بلوچستان میں کمیونکیشن نظام نہ ہونے کے برابر ہے ،وفاقی حکومت کی جانب سے مواصلات کے بہت سے منصوبوں کی تکمیل سے بلوچستان میں مواصلاتی نظام بہتر ہوگا،کورونا وائرس کو بیماری سمجھ کر اتحاد واتفاق کامظاہرہ کیاجائے تو اس کی روک تھام ممکن ہے ،اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں ،مذہبی رہنماﺅں کے عوام میں آگاہی کے حوالے سے کردار اہم ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ میرظہور احمد بلیدی نے کہا کہ ڈیلیو ایشن پاور بہت ضروری ہے 18ویں ترمیم کے تحت بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوگئے لیکن بد قسمتی سے وہ اختیارات صوبائی دارالخلافہ تک محدود ہوگئے ہیں جمہوریت کی اصل روح کہ اختیارات نچلی سطح منتقل ہوں اس سلسلے میں ضروری ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ وزن دار ہو تاکہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہو ں صوبائی حکومت نے ایکٹ میں ترمیم کر لی ہے یہ معاملہ عدالت میں ہے جس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی فنانس کمیشن بنا یا ہے جس کے تحت ہم ملنے والے فنڈز کو ضلعی سطح پر استعمال کرسکیں گے اور اضلاع اس کو تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر استعمال کریں یہ معاملہ زیر غور ہے جبکہ صوبائی فنانس کمیشن کا نوٹیفکیشن بھی ہوچکا ہے ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ سی پیک کے 2سے 3فیز ہیں جس میں پہلا فیز انفرا اسٹرکچر کاتھا جبکہ اب بزنس پلان ہے بد قسمتی سے چین کے ساتھ سی پیک معاہدوں میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والوں نے بہتر انداز میں صوبے کی نمائندگی نہیں کی سی پیک میں ہمارا حصہ بہت کم ہے گوادر ایئر پورٹ ،ایکسپریس وے جوگوادر کو کوسٹل بیلٹ سے ملاتی ہے اس کے علاوہ گوادر میں 300میگاواٹ کا پاور پروجیکٹ ہے اس کے علاوہ کوئی اور بڑا پروجیکٹ نہیں جو بلوچستان کی عوام کیلئے مفید ہو گوادر سی پیک کا فلیگ شپ پروجیکٹ ہے جس کے بغیر سی پیک کا منصوبہ نامکمل ہے یہاں کے سیاسی اور عوامی دباﺅ پر ژوب تا کچلاک شاہراہ جو گرانٹ کے تحت بند رہی تھی اس کا افتتاح کر دیا گیا لیکن وہ بھی عملی طور پر نہیں ہوسکا انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ہم نے یہ معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھا یا بیجنگ میں جوائنٹ کو ارڈینیشن کمیٹی میں یہ بات رکھی پھر وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ اگر آپ کو اس میں کچھ نہیں ملا تو ہم آپ کی مدد کرینگے انہوں نے وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پچھلے سال بلوچستان کے سے منصوبے منظور کر لئے گئے بلکہ ساﺅتھ بلوچستان کیلئے 600ارب روپے کا بڑا پروجیکٹ بھی دیا ہے ژوب کچلاک روڈ 65کروڑ روپے کا منصوبہ تھا وفاقی حکومت نے اس کی منظوری دیدی اس کے علاوہ بہت سے تعمیراتی ومواصلاتی منصوبے شامل ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کمیونیکیشن نظام نہ ہونے کے برابر ہے جب اضلاع کے ایک دوسرے کے ساتھ سڑکیں تعمیر ہونگی تو اس سے ترقی کاعمل تیز ہوگا وفاقی حکومت کی مدد کے بغیر بلوچستان کی ترقی نہ ہوسکے گی انہوں نے کہا کہ صوبائی ایچ ای سی اصولی طور پر بہت پہلے بننی چاہیے تھی لیکن سیاسی معاملات کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا لیکن بلوچستان حکومت ایک ایکٹ لارہا ہے جس کے تحت تمام جامعات کو چلا یا جاسکے بلکہ جامعات کی فنڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی کابینہ نے یونیورسٹی فنانس کمیشن کی منظوری دیدی جس کا میں چیئر مین ہوں صوبے کی جامعات کو ایک ارب 70کروڑ روپے کی گرانٹ دی جارہی ہے جس میں بلوچستان یونیورسٹی کا شیئر 34کروڑ ہے تعلیمی اداروں کے درمیان خلاءاور ڈراپ آﺅٹ ریشو کے خاتمے کیلئے بلوچستان ایجو کیشن کونسل کا پروپوزل بھیجا ہے جسکے تحت پرائمری اسکولز سے یونیورسٹی تک سب کو پیٹرنائز کیا جائے گا تاکہ ایجو کیشن سیکٹر میں مزید بہتری آجائے ظہو ا حمد بلیدی نے کہا کہ کورونا کا مقابلہ اکیلا نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے عوامی شعور سب سے اہم ہے اگر عوام متحدہوکر کورونا کو بیماری لیں تب اس بیماری سے چھٹکارا پا یا جاسکتا ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ عوام میں آگاہی پھیلائی جائے کورونا ایک موذی بیماری اس کا پہلا لہر خطرناک نہیں تھا لیکن یہ دوسرا لہر زیادہ خطرناک ہے عوام میں آگاہی کیلئے سیاسی جماعتوں،مذہبی رہنماءاورمساجد کے اماموں کو اس سلسلے میں کردارادا کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے طلباءوطالبات کو ان کی دہلیز پر تعلیم کی سہولت میسر ہوں اس سلسلے میں اقدامات جاری ہیں رائٹ ٹو انفارمیشن بل کابینہ سے پاس ہوا ہے اور بہت جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اس کے تحت تمام محکمے عوام کو معلومات تک رسائی دینگے بلکہ اس سلسلے میں سزاﺅں کا بھی تعین کیا گیا ہے جمہوریت میں رائٹ ٹو انفارمیشن بل بہت اہم ہے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ حکمران عوام کی بہتری کیلئے کیا اقدامات اٹھارہی ہے میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ سیاسی تبدیلی کسی کی خواہش ہوسکتی ہے تاہم مجھے ایسا کچھ نظر نہیں آرہا حکومت میں شامل جماعتیں اے این پی ،پی ٹی آئی ،ایچ ڈی پی،جے ڈبلیو پی،بی این پی (عوامی) سمیت تمام جماعتیں متحد ہیںاور موجودہ حکومت وزیراعلیٰ جام کمال کی قیادت میں مستحکم ہے پچھلے سال 75فیصد پی ایس ڈی پی یوٹیلائز ہوگئی تھی ۔






