ن لیگ بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ‘ بلوچستان میں ترقی دیکھنے کیلئے آنکھیں چاہئیں ‘ بشریٰ رند

ن لیگ بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ‘ بلوچستان میں ترقی دیکھنے کیلئے آنکھیں چاہئیں ‘ بشریٰ رند

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بلوچستان بشریٰ رند نے کہاہے کہ فوج کے خلاف بات کرنے سے فائدہ ملک دشمنوں کو ہوگا،پی ڈی ایم جلسے جلوس کریں لیکن عوام دشمنی چھوڑ کر حالات کی سنگینی کوسمجھیں ،سیاست سب کا حق ہے لیکن اگر اپوزیشن اپنا احتجاج دو ماہ تک ملتوی کرے تو قیامت نہیں آئے گی موجودہ صورتحال گھمبیر اور نازک ہے ،بلوچستان حکومت عوام کی مینڈیٹ سے منتخب ہوکر آئی ہے ، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال پر کام نہ کرنے کی تنقید توکی جا رہی ہے لیکن ان کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دیکھنے والی آنکھیں چاہیے ،حکومت تعلیم اور صحت سمیت نظرانداز کئے جانے والے علاقوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ،کورونا وائرس کادوسرا فیز زیادہ خطرناک ہے ،بلوچستان اور پاکستان امن و امان افواج پاکستان کی مرحون منت ہیں لیکن بلوچستان کا امن پی ڈی ایم کو ہضم نہیں ہو رہی۔صوبائی حکومت سیاحت کی ترقی کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے جس سے عوام کو سیر وتفریح کے مواقعوں کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع میسر ہوںگے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی وفات پر فاتحہ خوانی کی گئی بشری رند نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے موثر انداز میں اقدامات اٹھا رہی ہے ،پی ایس ڈی پی میں زیارت ریسٹ ہاو¿س کی لاگت 50 ملین،شابان میں سیاحتی منصوبے پر 100 ملین سمیت مختلف منصوبوں جس میں ،کیپنگ ہاﺅس ملا چٹوک ،لنڈ ملیر پر ساحلی پٹی کی ڈویلپمنٹ اور ہنہ اوڑک کو جدید خطوط پراستوار کرنے جیسے منصوبے شامل ہیں ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے پیر غائب کاافتتاح کیاگیا جس کی ڈویلپمنٹ پر 60 ملین کا خرچ آیا ،انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کہ موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئی ہے کو مستردکرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت عوام کی مینڈیٹ سے منتخب ہوکر آئی ہے ،اپوزیشن جماعتیں جلسے جلوسوں میں حکومت پر الزامات عائد کررہے ہیں حالانکہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کو مسترد کردیا،ماضی میں اقتدار میں رہنے والی جماعتوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا جس پر عوام نے 2018ءمیں موجودہ حکومت کومنتخب کیا ،انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے کورونا کو مذاق بنایا ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ اپوزیشن احتجاج اور جلسے جلوس نہ کرے سیاست سب کا حق ہے لیکن اگر اپوزیشن اپنا احتجاج دو ماہ تک ملتوی کرے تو قیامت نہیں آئے گی موجودہ حالات گھمبیر اور نازک ہے بلوچستان کے ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے جگہ نہیں ہے کورونا وائرس کا دوسرا فیز پہلے سے زیادہ خطرناک ہے ،انہوں نے کہاکہ ملک میں اپوزیشن جلسوں سے پہلے کورونا 2فیصد جبکہ اب 20فیصد تک کیسز جاپہنچے ہیں ،کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے پہلے2.7 فیصد جبکہ اب 7.9 تک پہنچ گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ اپوزیشن اپنے گریبانوں میں جانکیں ،وزیر اعلی بلوچستان جام کمال پر کام نہ کرنے کی تنقید کی جا رہی ہے ،جام کمال کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دیکھنے والی آنکھیں چاہیے ،موجودہ حکومت صوبے کے ماضی میں پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ،صوبے میں محکمہ تعلیم اور صحت میں اصلاحات کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان محکمہ صحت کو جدید خطوط پراستوار کریگا بلوچستان میں پرائمری سکولز موجود تاہم مڈل سکولز کی کمی ہے اس حوالے سے صوبائی حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے ،انہوں نے کہاکہ ماضی میں سب سے بڑا مسئلہ لاءاینڈ آرڈر کا تھا جس کو موجودہ حکومت نے ترجیح دیتے ہوئے صوبے میں امن وامان قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی لیکن بلوچستان کا امن پی ڈی ایم کو ہضم نہیں ہو رہی ،جلسوں اور سڑکوں پر ریلیوں میں سرعام پاک فوج کے خلاف بات ہورہی ہے جس کا فائدہ سب سے زیادہ ملک دشمن اٹھا رہے ہیں حالانکہ صوبے اور ملک میں امن و امان افواج پاکستان کی مرحون منت ہیںہم واضح کرتے ہیں کہ پاک فوج نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں عوام کا بھرپورساتھ دیا ہے ،پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں ماضی میں اقتدار کا حصہ رہی ہے اپنے دور اقتدار میں ذاتی مفادات اور بینک بیلنس کو ترجیح دینے والوں کو عام انتخابات میں عام عوام نے مسترد کردیا آج پی ڈی ایم عوام کو کورونا میں مرنے کیلئے چھوڑ کر پاور دکھانے کیلئے تگ ودو کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ایجنڈا ملک دشمنوں کا ہے رانا ثناءاللہ مشرف سے متعلق بات کرتے ہیں حالانکہ مشرف کو نواز شریف نے باہر جانے کی اجازت دی تھی جبکہ بلوچستان میں سب سے زیادہ لوگ نواز شریف ہی کے دور میں لاپتہ ہوئے تھے ،مسلم لیگ(ن) کی جدوجہد اپنے قائدین کی کرپشن کو چھپانے کیلئے ہے ،انہوں نے کہاکہ جمعہ کا دن عبادت کیلئے ہوتاہے جبکہ جمعہ کو مدارس بند ہوتی ہے تو بچوں کو جلسے جلوسوں میں لایا گیا ،بڑی جماعتیں موروثی سیاست کررہی ہے کیا پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ن) اور جمعیت کے کارکنوں میں ایسا کوئی نہیں جو پارٹی سے ٹکٹ پر اسمبلی تک پہنچیں ،موجودہ حالات میں دنیا کو کورونا وائرس جیسی وباءکاسامنا ہے درآمدات اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے مہنگائی ہر دور میں ہوتی ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ ہم عوام کو سہولیات دیں۔ پی ڈی ایم کے قائدین عوام کو بے وقوف نہ بنائیں ،ہم تنقید برائے اصلاح کے حق میں ہے نا کہ تنقید برائے تنقید کی ،پی ڈی ایم سڑکوں پر کھڑے ہوکر عوام اور اداروں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کافائدہ ملک دشمن جبکہ نقصان پاکستانی عوام کو ہوگا،بلوچستان کے ساحل وسائل پر کوئی قبضہ نہیں ہورہا وفاق جزائر کی بہتری کیلئے بلوچستان کی مدد کررہاہے ،محکموں میں ملازمین کی تنخواہوںسے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کے وزراءسے بات کرکے میڈیا کو حقائق سے آگاہ کروں گاانہوں نے کہاکہ جب کرپشن کرنے والوں کو سزا ملے گی تو کرپشن کی روک تھام ممکن ہوسکے گا وزیراعلیٰ بلوچستان محکموں کی بہتری کیلئے کوشاں ہے ۔انہوں نے فاطمہ جناح جنرل اینڈ چیسٹ ہسپتال میں آکسیجن پلانٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ فاطمہ جناح ہسپتال کیلئے آکسیجن پلانٹ کی منظوری ہوگئی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!