کوئٹہ :وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ آئے مل کر بلوچستان کوترقی کی راہ پرگامزن کریں اگررونے دونے سے بلوچستان اور پاکستان ترقی کرسکتاہے توآئے سب مل کرروتے ہیں ،بہتر پلاننگ ،چیزوں کی مانیٹرنگ اور وسائل کی پیداوار سے ہی مسائل حل اور صوبہ ترقی کی راہ پرگامزن ہوگا، لوگ سیاست ضرور کریں سیاست ایسی ہو کہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ نہ بن جائیں ،بلوچستان انٹرنیشنل اسکواش لیگ کی ٹورنامنٹ میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی آمد سے نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان کی امیج بہتر ہوئی ہے ،کھیلوں کے اسٹارز ہمیشہ گلی محلے سے نکلے ہیں بلوچستان کے نوجوانوں کو سہولیات میسر ہوں تو پاکستان کی دنیا میں نام روشن کریںگے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ جام کمال نے کہاکہ میں بچپن سے سپورٹس مین رہاہوں گلی کی کرکٹ کھیلا ہے بلکہ گلی میں ساکر ،اسٹیڈیم اور اچھی سہولت میں بھی کھیلاہے جب بھی موقع ملا ہے کھیل کے فروغ کی کوشش کی ہے ،کھلاڑی میں کھیل کے حوالے سے احساس رہتاہے جب اللہ تعالیٰ نے موقع دیا کہ جب بچپن میں سہولیات نہیں تھی تو میں کیوں نہ لوگوں کو کھیلوں کے حوالے سے عوام کو سہولت دوں ،انہوں نے کہاکہ جب میں وزیراعلیٰ بنا تو کھیلوں سے متعلق ڈیٹا جمع کیا تو پتہ چلا کہ ایوب اسٹیڈیم کے سوا کھیل کے علاوہ کوئی سہولت نہیں عام محلوں میں لوگ سہولیات سے محروم ہیں ،انہوں نے کہاکہ فٹ سال نے ماحول بدل دی ماضی میں فٹ سال کااچھا رسپانس آیاتو ہم نے اس کو فروغ دینے کی کوشش کی ،اس حوالے سے پلاننگ کی میں خود اس کی نگرانی کرتا رہا،کوئٹہ میں بہت کم لائبریریز ہے ،سرکاری اراضیات جس پر لینڈ مافیا نے قبضہ کیا تھا ہم نے واگزار کرایا اور اس پر کھیل کی سہولت فراہم کی بلوچستان کے نوجوان پاکستان کیلئے سب سے زیادہ کارنامے سرانجام دینے کی اہمیت رکھتاہے مجھے عمران خان کی ایک بات مختلف لگی کہ جام صاحب میں نے اپنے بچپن سے کرکٹ کھیلا ہے لیکن جو لوگ ان اسٹیڈیم سے آتے ہیں جہاں کوئی سہولت نہیں ہوتی ان کے اندر ایک جذبہ ہوتاہے وہ بچہ جب عام محلے سے آتا ہے ،پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ پلیئرز گلی سے ڈویلپ ہوئے ہیں اور اگر انہیں سہولت مہیا کی جائے تو وہ اسٹارز بن جاتے ہیں ،اسکواش،کرکٹ سمیت مختلف شعبے ہیں سہولیات کی فقدان کی وجہ سے لوگ کی ٹیلنٹ سامنے نہیں آتامیری امید ہے کہ 33سپورٹس کمپلیکس اور100فٹ سال گراﺅنڈزبنیںگے تو ایک نرسری بنے گی جس کااگلے پانچ دس سال میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھلاڑی نظرآئیںگے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ساتھ پاکستان کاامیج بہترہواہے ،پاکستان میں کئی سالوں سے اسکواش کی رپرزنیٹیشن نہیں تھی رینکنگ پلیئر ز کا کوئی ٹورنامنٹ تو ہواہی نہیں ہے ،بی آئی ایس ایل کا یہ تیسرا سال تھا پچھلے بار بھی آئے تھے اس بار زیادہ کھلاڑی آئے تھے ،انہوں نے کہاکہ دنیا کو پیغام ملے گاکہ پاکستان کے اس علاقے میں جس کو سیکورٹی رسک میں سب سے زیادہ دیکھاجاتاہے میں ٹورنامنٹس ہورہے ہیں ،کھلاڑیوں نے ہمیں کہاکہ جب گوگل پر دیکھاتو لگا کہ یہ قندہار کے ساتھ ہے ہم نے کہاکہ آپ نے دیکھا کہ کوئٹہ کیسا ہے تو انہوں نے کہاکہ بہت مختلف ہے ، انہوں نے کہاکہ یہ منفی رائے توڑنا ہے پاکستان ایک ڈسٹینیشن ہے جس کو دیکھنے کیلئے لوگ بے تاب ہے ،جو آتا وہ اس سے محبت بھی کرتاہے اور حیران بھی ہوجاتاہے ،اسکواش ٹورنامنٹ میں ورلڈ نمبر ون ،ٹو آئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ میراپیغام ہے کہ ہم بلوچستان کیلئے کام کرے ،تقاریر میں رونے دونے سے اگر پاکستان اور بلوچستان ٹھیک ہوسکتاہے تو آئے سب مل کر روتے ہیں ،رونے سے نہ تو فٹ سال بنیںگے اور نہ روڈ بنیںگے ،ترقی اس وقت ہوگی جب ہم پلاننگ کرینگے چیزوں کی مانیٹرنگ اور وسائل پیدا کرینگے تب ترقی ممکن ہوگا، لوگ سیاست ضرور کرے ایسی سیاست نہ ہو کہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ بنیں ،انہوں نے کہاکہ 33سپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ اسٹیڈیمز ،ساکرز،کرکٹ کا 15سے 20ارب روپے کا پروجیکٹ ہے اللہ نے چاہا تو بلوچستان کے ہر ضلع میں قومی گیم دے سکیںگے ۔






