ساری ریلوے کو ہم نہیں چلا سکتے، کچھ حصوں کو آئوٹ سورس کرنا پڑے گا، اعظم سواتی

ساری ریلوے کو ہم نہیں چلا سکتے، کچھ حصوں کو آئوٹ سورس کرنا پڑے گا، اعظم سواتی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لاہور:وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے میڈیا کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے مجھے اہم ذمہ داری سونپی ہے انسانی جان سے اہم کوئی چیز نہیں ہے اس حوالے سے کوئی رعایت نہیں ہوسکتی میری اولین ترجیح محفوظ ٹرین آپریشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے خط لکھ دیئے ہیں۔ میڈیا ریاست کا بہت بڑا ستون ہے اگر وہ ہماری وزار کی حرکات پر نظر نہیں رکھے گا، غفلت کی نشاندہی نہیں کرے گا تو اس تباہ حال ریلوے کو کبھی بہتر نہیں کر سکیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ا مریکہ کے اندر اپنے بچوں کے لئے بینک کرپٹ کمپنیوں کو اُٹھایا ہے۔ اسی طرح عوام سُن لیں اب پاکستان ریلوے بدنامی کا ذریعہ نہیں بلکہ انشااللہ خوش بختی کے طور پر ایک اچھا ٹریڈ مارک بنا کر سامنے لائیں گے۔ لوگوں کو سکلز دوں گا جو کام ہم نہیں کر سکتے اس کے لئے پبلک پرائیویٹ کا شعبہ بنا یا جائے گا۔ میر ی دوسری ترجیح ہیومن ریسورس ہوگا۔ ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کو ڈیجٹل آٹو میشن کے ذریعے ان کی کپیسٹی بہتر کرنے کے لئے ایک چھوٹی سی فورس کے ذریعے اپنی ریلوے کو بہتر بنا سکتے ہیں یہ دُنیا کا ماڈل ہے میں لوگوں کو نکالنے والا نہیں ہوں میں ان کو سکلز دوں گا۔ ان کی کپیسٹی کو بہتر کروں گا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم ریلوے میں اس طرح کی بہتری لائیں گے کہ لوگوں کو سستا سفر ، صاف آب و ہوا اور وقت مقررہ پر ان کا سفر مکمل ہوگا۔ گزشتہ روز جب میں نے ٹرین میں سفر کیا تو ایک مسافر نے مجھے کہا کہ آپ کی وجہ سے یہ ٹرین 10منٹ پہلے پہنچی ہے۔ یہ آپ کی اور میری ریلوے ہے اس کو مزید بہتر بنا یا جائے ۔یہی مزاج ہونا چاہئے۔پی آئی اے جیسے ادارے میں وقت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔بھرتیاں کر کے اس ادارے کو تباہ کیا حالانکہ پی آئی اے ہماری عظمت کا نشان ہے۔ ریلوے کو ترقی دے کر عزت کا نشان بنانا ہو گا۔ہماری تیسری ترجیح یہ ہے کہ پسنجر ٹرین کی بجائے اب ہم فریٹ سیکٹر کو مضبوط بنائیں گے۔ اربوں روپے کا اب تک ہمیں جو نقصان ہواہے اس کو پورا کرنے میں ہمیں وقت لگے گا۔ نئے انجن، نئی بوگیاں آ رہی ہیں۔ یہ ساری چیزیں پائپ لائین میںہیں جو شیخ رشید نے ہمیں دی ہیں۔قبضہ مافیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ریلوے کی زمینوں کو ہر حالت میں واگزار کرایا جائے گا۔ نہ کسی شہر میں میری سوسائٹیاں ہیںاور نہ میں کسی قبضہ مافیاکو چھوڑوں گا کیونکہ ریلوے کی زمینوں کی اہمیت ہماری ذاتی پراپرٹی سے زیادہ ہے کیونکہ یہ قوم کی پراپرٹی ہے ۔ ایک سوال کے جواب پر اُنہوں نے کہا ریلوے ہماری زراعت،صنعت اور ٹورازم میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے۔ ریلوے کی بہتری کے لئے ہر ممکن اقدام اُٹھاو¿ں گااور میں کل اتوار کو بھی کام کر رہا ہوں۔ اپنے ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں اور اپنے ذہن کے مطابق ان کو پایہ تکمیل تک پہنچاو¿ں گا۔ جس طرح ایک عام آدمی اپنے کاروبارکو بڑھانے کے لئے اس کی خامیاں دور کرتا ہے اسی طرح میں اس ریلوے کو بہتر کروں گا۔ریلوے پولیس پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آئی جی ریلوے نے اپنی بریفنگ میں ریلوے پولیس کی بہتری کے حوالے سے تجاویز پیش کی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریلوے پولیس کے اندر بھی کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کو ہم آو¿ٹ سورس کریں گے۔ ریلوے اسٹیشنوں کے اُوپر بھی بہت ساری چیزوں کو آو¿ٹ سورس کریں گے۔ باہر سے اچھی شہرت یافتہ کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے جگہ دی جائے گی تاکہ جس سے ہمارا فارن ایکسچینج بھی بڑھے اور ریلوے بھی ترقی کرے۔ساری ریلوے کو ہم نہیں چلا سکتے اس کے کچھ حصوں کو آو¿ٹ سورس کرنا پڑے گا۔ اگر نہیں کریں گے تو مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ ریلوے کی نجکاری نہیں ہو گی اور نہ ہی کسی ملازم کو نکالا جائے گابلکہ ملازمین کی بہتری کے لئے کام کریں گے۔ بعدازاں وفاقی وزیر ریلوے نے ریلوے والٹن اکیڈیمی کا دورہ کیا اس موقع پر ایڈیشنل جنرل منیجر ٹریفک سید مظہر علی شاہ اور ڈائریکٹرجنرل والٹن اکیڈیمی وقار احمد شاہد نے وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کو والٹن اکیڈیمی کی استعداد کار بڑھانے اور اکیڈیمی کے فنڈز بڑھانے سے متعلق بھی بتایا جس پر وزیر ریلوے نے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ کپیسٹی بلڈنگ بڑھانے کے لیے ہرممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!