کریمہ کی چھوٹی بہن ماہ گنج بتاتی ہیں کہ جس روز وہ لاپتہ ہوئیں اس دن پاکستان کے وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے ان کی کریمہ سے بات ہوئی تھی۔’وہ باہر جا رہی تھی، اُس نے مجھ سے کہا کہ سونا نہیں میں جلدی واپس آ کر تمہیں ویڈیو کال کرتی ہوں اور جو کرسمس گفٹ لیے ہیں، ان سے سب کو سرپرائز دینا ہے۔‘ ماہ گنج کے مطابق کریمہ نے کہا ’جلد تمہاری یونیورسٹی کھل جائے جو بیگ اور شوز میں نے بھیجے ہیں وہ پہن کر تصویر بھیجنا۔‘ اُس نے مجھے یہ بھی کہا کہ یہاں سے کوئی آ رہا ہے تو کچھ کتابیں جس میں آگ کا دریا اور کچھ اور کتابیں شامل ہیں، وہ مجھے بھجوا دینا۔ماہ گنج کے مطابق کریمہ کے کئی خواب تھے اور وہ مثبت سوچ کی انسان اور ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔’وہ ماموں کے بہت قریب تھیں اور جب ماموں کی مسخ شدہ لاش ملی تو اسی وقت اس کی ایک سہیلی نے افسوس کا میسج کیا تو کریمہ نے کہا کہ افسوس کس بات کا یہ جدوجہد کا حصہ ہے اور تحریک میں اس طرح کے حالات آتے ہیں۔ ماہ گنج کہتی ہیں کہ جب میں بھی ماموں یا کسی اور ساتھی کے بچھڑنے کا دکھ بیان کرتی تو وہ کہتی کہ تحریکوں میں اس سے بھی برے حالات آتے ہیں ہمیں ہر چیز کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ماہ گنج بتاتی ہیں کہ کریمہ کے لیے بہت رشتے آتے تھے مگر وہ انکار کردیتی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ شادی کی وجہ سے ان کی سیاسی جدوجہد پہ کوئی فرق پڑے۔’اس نے کہا تھا کہ میں کسی ایسے انسان سے شادی کروں گی جو میری جدوجہد کو سپورٹ کرے نہ کے مجھے روکے۔ پیار اور محبت کے لئے اس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔ وہ ہر وقت اپنی جدوجہد میں مصروف تھی اُس کا عشق بلوچستان سے تھا۔‘
