کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث گذشتہ کئی ماہ سے جعلی خبروں اور جھوٹے دعوؤں کا بازار گرم ہے اور ایسے میں جہاں حکومتیں آگاہی کے لیے اشتہارات کا سہارا لے رہی ہیں وہیں مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ایسا خاص طور پر اس لیے بھی ہے کیونکہ مذہبی رہنماؤں کے لاکھوں مداح ہوتے ہیں اور عوام میں ان کی بات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک مقبول مذہبی شخصیت طارق جمیل بھی ہیں۔ طارق جمیل رواں ماہ ہی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان کی آفیشل یوٹیوب اکاؤنٹ سے جمعرات کے روز جاری کی گئی ویڈیو میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی تدابیر اپنائیں۔ اس ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ‘کورونا کی پہلی لہر میں میں نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کروائی تھی لیکن ’مجھے پتا نہیں تھا کہ کورونا ہوتا کیا ہے، اس دفعہ میں خود اس کی لپیٹ میں آیا ہوں اور خدا نے مجھے صحت بخشی ہے۔ طارق جمیل کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالورز ہیں۔ ان کے یوٹیوب اکاؤنٹ پر ہی انھیں 46 لاکھ سے زیادہ افراد فالو کرتے ہیں۔ ایسے میں یقیناً ان کی جانب سے دیے گئے پیغام کو خاصی اہمیت بھی حاصل ہے اور اس کی رسائی بھی اچھے خاصے لوگوں تک ہے۔ ان کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے اکثر افراد ان کا یہ پیغام شیئر کر رہے ہیں اور لوگوں سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ جہاں اس ویڈیو میں طارق جمیل بار بار لوگوں سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی درخواست کر رہے ہیں وہاں یہ بات بھی خاصی نمایاں ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ان کی صحت پر کافی اثر پڑا ہے۔ وہ عام طور پر اپنی خوش الہانی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں لیکن اس ویڈیو میں بمشکل جملے ادا کر پا رہے ہیں اور اس بات کا اعتراف خود بھی کرتے ہیں کہ ان سے بولا نہیں جا رہا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اکثر افراد نے طارق جمیل کی جلد صحتیابی کے بھی دعا کی اور ایک صارف نے لکھا کہ وہ تو طارق جمیل کی ویڈیو دیکھ کر ’کانپ‘ گئے۔ ایک اور صارف نے لکھا ’جو افراد اس وائرس سے گزرے ہیں انھیں ہی معلوم ہے کہ یہ کتنی بری چیز ہے اور کیوںکہ ہماری عوام مذہبی شخصیات کی بات سنتی ہے اس لیے اس ویڈیو کو دیکھیے اور ان کے پیغام پر عمل کریں۔ انھیں اب بھی بات کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔’ اسی طرح متعدد صارفین طارق جمیل کے پیغام سے متاثر ہوتے بھی دکھائی دیے اور انھوں نے ان کی صحت کے لیے دعا کرتے ہوئے یہ ویڈیو شیئر بھی کی۔






