عدلیہ پر عوام کا اعتماد وراثت میں نہیں ملتا، اسے کارکردگی سے حاصل کرنا ہوتا ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

عدلیہ پر عوام کا اعتماد وراثت میں نہیں ملتا، اسے کارکردگی سے حاصل کرنا ہوتا ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد نہ تو وراثت میں ملتا ہے اور نہ ہی محض دعوے سے حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ اعتماد عدلیہ کی کارکردگی اور عوامی خدمت سے قائم ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہر شہری کا کسی ریاستی ادارے کے ساتھ پہلا واسطہ اکثر عدلیہ کے ذریعے پڑتا ہے، اس لیے عدلیہ عوامی اعتماد کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد 2 بنیادی ستونوں پر قائم ہوتا ہے، ایک بااختیار ججز اور دوسرا مضبوط ادارہ جاتی نظام۔ یہی عوامل ججز کو آزادی، اعتماد اور بہترین صلاحیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل بناتے ہیں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے ضلعی عدلیہ کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی عدلیہ اور قومی سطح پر پالیسی سازی کرنے والی کمیٹی کے درمیان ایک خلا موجود تھا، جس کے باعث ضلعی سطح سے آنے والے منصوبوں کی منظوری اور انہیں فنڈز کی فراہمی میں 3 سے 4 ماہ تک کا وقت لگ جاتا تھا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ ہر صوبے کے لیے اضافی سیکریٹریز مقرر کیے جائیں، جو ضلعی عدلیہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں تاکہ ضلعی عدالتوں کی جانب سے بھیجے جانے والے منصوبوں پر بروقت پیشرفت ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے تحت ضلعی عدلیہ سے ان منصوبوں کی ترجیحات اور ضروریات کی فہرست طلب کی گئی جنہیں وہ شروع کرنا چاہتی ہے۔ اس عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ضلعی عدلیہ کو بنیادی طور پر چار اہم شعبوں میں سہولیات اور منصوبوں کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے صرف پالیسی سازی کافی نہیں بلکہ ضلعی سطح پر درکار سہولیات اور منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ضروری ہے۔ عدلیہ کی آزادی، ادارہ جاتی مضبوطی اور عوام کا اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ججز کو اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں ادا کرنے کے لیے مؤثر نظام فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ ضلعی عدالتوں سے ان کی ضروریات سے متعلق فہرست طلب کی گئی تو 4 اہم امور سامنے آئے۔ ان میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ضلعی عدالتوں میں خواتین کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی اور صاف پانی کی دستیابی شامل تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل جوڈیشل پالیسی کمیٹی نے اس سال ان منصوبوں کی منظوری دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ امر عوام کے علم میں لانا بھی ضروری ہے کہ رسائی انصاف فنڈ کے قیام کے بعد گزشتہ 20 برس میں پہلی مرتبہ ایک سال کے دوران اتنی بڑی رقم مختص کی گئی ہے۔
ان کے مطابق رواں سال رسائی انصاف فنڈ کے تحت 3 ارب 40 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی، جو ضلعی عدلیہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور عدالتی سہولیات بہتر بنانے پر خرچ کی جائے گی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ضلعی عدلیہ کے ججز اور عدالتی افسران کو بھی اسی جذبے اور احساس ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے، جس کی توقع اعلیٰ عدلیہ کے ججز سے کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف مواقع پر ضلعی عدلیہ کے افسران سے ملاقاتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مختلف صوبوں میں عدالتی افسران کو دستیاب سہولیات اور کام کے حالات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ بالخصوص بلوچستان کے عدالتی افسران کو فراہم کی جانے والی سہولیات دیگر صوبوں کے مقابلے میں مختلف ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج نے کی، جبکہ اس میں ضلعی عدلیہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔ کمیٹی کا مقصد مختلف صوبوں میں عدالتی افسران کے حالات، سہولیات اور ضروریات کا جائزہ لے کر ان میں ممکنہ حد تک یکسانیت پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں عدالتی افسران کے لیے ایک سہولت پہلے ہی متعارف کرائی جاچکی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سہولت کا دائرہ ملک کے دیگر صوبوں کے تمام عدالتی افسران تک بھی بڑھایا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف صوبوں کے عدالتی افسران کے لیے یکساں سہولیات اور بہتر کام کے حالات کی فراہمی ایک مثبت پیشرفت ہے، جس سے ضلعی عدلیہ کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے