تفتان(آصف بلوچ) سرحدی شہر تفتان میں زیرو پوائنٹ گیٹ کی بندش کے خلاف اہلیان تفتان نے آر سی ڈی شاہراہ پر احتجاج کیا اور دھرنا کر شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا جس گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق گزستہ 3 مہینوں سے بند پاک ایران دوستانہ تجارتی گیٹ زیرو پوائنٹ کی بندش کے خلاف جمعیت علماء اسلام اور بابائے چاغی پینل کے زیر اہتمام تفتان میں احتجاج اور انٹرنیشنل شاہراہ کو ہرقسم کےآمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا مظاہرین نے شاہراہ پر ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دیا جس سے پاک ایران آر سی ڈی شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی جمعیت علماء اسلام اور بابائے چاغی پینل، دیگر معتبرین تفتان نے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 3 مہینوں سے پاک ایران دوستانہ تجارتی گیٹ زیرو پوائنٹ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر دیا گیا جس سے علاقے کے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں زیرو پوائنٹ گیٹ میں 5 ہزار سے زائد مزدور روزانہ اجرت پر کام کر کے اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں ہم زیرو پوائنٹ گیٹ کی بندش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں مظاہرین سے اسسٹنٹ کمشنر تفتان عصمت اللہ اچکزئی، تحصیلدار تفتان ظہور احمد محمد حسنی اور نائب رسالدار در محمد بلوچ نے مذاکرات کی اسسٹنٹ کمشنر نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ اس مسئلے کو ڈپٹی کمشنر چاغی کے توسط سے حل کر دیں اور دو طرفہ دوستانہ زیرو پوائنٹ تجارتی گیٹ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دیں گے اسسٹنٹ کمشنر تفتان کی یقین دہانی پر مظاہرین نے اپنا دھرنا اور احتجاج ختم کر دیا اور کہا کہ اگر تین دن کے بعد زیرو پوائنٹ گیٹ تجارتی سرگرمیوں کے لئے کھول نہیں گیا تو ہم پاک ایران امیگریشن گیٹ اور مشترکہ بازار چاہ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر دیں گے احتجاج ختم ہونے کے بعد ٹریفک میں روانی بحال ہوگی۔
