سکھر:سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں ریکوڈک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) کے اشتراک سے جاری ریکوڈک اسکالرشپ فاو¿نڈیشن پروگرام کے پہلے بیچ کی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی، جس میں ضلع چاغی، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی شاندار تعلیمی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ پروگرام کے پہلے بیچ کے 50 طلبہ میں سے 38 طلبہ فاو¿نڈیشن سمسٹر مکمل ہونے سے قبل ہی پاکستان کی ممتاز جامعات میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ باقی 12 طلبہ ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کی تیاری میں مصروف ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف احمد شیخ نے اس کامیابی کو یونیورسٹی کے اس مشن کا اہم سنگ میل قرار دیا جس کا مقصد بلوچستان سمیت پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ریکوڈک مائننگ کمپنی کی تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے عزم کو سراہتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ دیانت داری، محنت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھیں اور بلوچستان و پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں مو¿ثر کردار ادا کریں۔یہ اسکالرشپ پروگرام سکھر آئی بی اے یونیورسٹی اور ریکوڈک مائننگ کمپنی کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت شروع کیا گیا، جس کا مقصد ضلع چاغی کے باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔ پروگرام کے تحت ہر سال 50 طلبہ کو فاو¿نڈیشن کورس میں داخلہ دیا جاتا ہے، جہاں انہیں تعلیمی تیاری، مینٹورنگ، کیریئر کونسلنگ، قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت اور شخصیت سازی کے ذریعے ملک کی ممتاز جامعات میں داخلے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ریکوڈک اسکالرشپ پروگرام کے فوکل پرسن اور ڈائریکٹر کیریئر ڈیولپمنٹ سینٹر قاضی عبد الواحد نے پروگرام کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ طلبہ کی تعلیمی استعداد میں نمایاں اضافہ، جامع رہنمائی اور اعلیٰ جامعات میں داخلے اس منصوبے کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا ریکوڈک مائننگ کمپنی، سکھر آئی بی اے کی فیکلٹی، کیریئر ڈیولپمنٹ سینٹر کی ٹیم اور طلبہ کے والدین کے تعاون کو دیا۔اس موقع پر ریکوڈک مائننگ کمپنی کے سسٹین ایبلٹی منیجر اسٹیفن ہرب نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم معاشرتی ترقی اور پائیدار خوشحالی کا سب سے مو¿ثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نوجوانوں میں سرمایہ کاری، تعلیمی شراکت داریوں اور اسکالرشپ پروگراموں کے ذریعے بلوچستان میں انسانی وسائل کی ترقی کے اپنے عزم پر قائم ہے۔کمیونٹی ڈیولپمنٹ کمیٹی نوکنڈی کے چیئرمین حاجی ارز محمد نے بھی طلبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ 50 اسپانسر شدہ طلبہ میں سے 38 کا ملک کی اعلیٰ جامعات میں داخلہ اس پروگرام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مستقبل میں اسکالرشپ فنڈنگ میں اضافے اور نمایاں طلبہ کے لیے بین الاقوامی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید میر محمد شاہ نے کہا کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی اس نوعیت کی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھاتی رہے گی۔پروگرام کی نمایاں کامیابی یہ بھی رہی کہ داخلے کے وقت طلبہ کی اوسط تعلیمی کارکردگی 33 فیصد تھی، جو صرف پانچ ماہ کی تعلیمی تیاری کے بعد بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گئی، یعنی مجموعی طور پر 39 فیصد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پہلے بیچ کی غیرمعمولی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے فاو¿نڈیشن پروگرام کا دورانیہ چھ ماہ سے بڑھا کر نو ماہ کر دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو مزید مو¿ثر تعلیمی تیاری، قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت اور کیریئر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ یونیورسٹی کے مطابق پروگرام کے آئندہ بیچ کے لیے داخلے جاری ہیں، جبکہ نیا بیچ ستمبر 2026 میں اپنی فاو¿نڈیشن تعلیم کا آغاز کرے گا۔تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی اور ریکوڈک مائننگ کمپنی کا یہ مشترکہ منصوبہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، بہتر مستقبل اور قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے مزید مواقع فراہم کرتا رہے گا۔






