قبائلی رہنما چیف آف موسیانی سردار نصیراحمد موسیانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جھالاوان ایک قبائلی علاقہ ہے۔ اسکی ایک تاریخ ہے یہاں بلوچی روایات پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جتک قبیلے کے چار افراد کی ناگہانی موت نے جھالاوان جیسے روایات کے امین علاقے کے لیئے نیگ شگون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچیت کے دعویدار بلوچ قوم کے وارثوں سے ایسے گناہ کا سرزد ہونا بلوچ قوم کے لیئے ایک داغ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جتک قبیلہ ایک پر امن قبیلہ رہا ہے ہمیشہ سے بلوچ قوم کے تمام قبائل کے شانہ بشانہ رہا ہے اب اس جتک قبیلے کے افراد کو قتل کرکے لاشوں کو ویرانے میں پھینکنا جتک قوم سمیت تمام بلوچ قبائل کے روایت کیلئے کے لیئے ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ قبائلی فیصلوں کے بہانے اگر اس طرح مزید لوگوں کا قتل کیا گیا تو شاید آنیوالے دور میں جھالاوان سمیت بلوچستان کے اقوام ایک دوسرے کے خلاف دست بستہ ہونگے۔ اس جیسے عمل کی وجہ سے قوم کے بچوں پر ایک بُرا اثر پڑیگا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے مکمل چھان بین کرکے اصل مجرموں کو قرار واقعی سزا دیا جائے تاکہ جتک قبیلے میں مزید تشوش نہ رہے






