غیر قانونی ہجرت کے خلاف بڑا اقدام، 22 یورپین ممالک کا سخت بارڈر پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ

غیر قانونی ہجرت کے خلاف بڑا اقدام، 22 یورپین ممالک کا سخت بارڈر پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسپین کے شہر سیوٹا میں مہاجرین کی بڑی لہر کے بعد اٹلی اور ڈنمارک نے یورپی یونین کے 22 رکن ممالک کی حمایت سے بیرونی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے، غیر قانونی ہجرت روکنے اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔ ادھر اسپین نے بعض یورپی ممالک کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
حکام کے مطابق مراکش سے تقریباً 60,000 مہاجرین نے اسپین کے خودمختار شہر سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ہزاروں افراد نے سمندر میں انفلیٹیبل ٹیوبز اور دیگر ذرائع کی مدد سے حفاظتی رکاوٹیں عبور کیں، جبکہ بعض نے بلند سرحدی باڑ پر چڑھنے کی کوشش کی۔
رپورٹس کے مطابق سمندری راستے سے عبور کے دوران کم از کم 19 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد یورپی ممالک میں سرحدی سلامتی اور غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی۔
سیوٹا کی صورتحال کے بعد اٹلی اور ڈنمارک نے مشترکہ خط کے ذریعے یورپی یونین کے 22 رکن ممالک کی حمایت حاصل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بیرونی سرحدوں کے تحفظ، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی اور غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے کہا کہ سیوٹا سے آنے والی تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ یورپ کو غیر قانونی ہجرت کے مسئلے پر فوری اور مشترکہ ردعمل دینا ہوگا۔
ان کے مطابق یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا دفاع کسی ایک ملک نہیں بلکہ پورے یورپ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سیوٹا بحران کے بعد اٹلی نے عارضی طور پر اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت کھلی سرحدوں کی سہولت 1 ماہ کے لیے معطل کرتے ہوئے فضائی اور بحری راستوں پر پاسپورٹ چیک کے بغیر آمدورفت روک دی، جسے یورپ میں غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بعض یورپی ممالک کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ریاستیں تعصب، غلط معلومات، لاعلمی یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر اسپین کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
برسلز کو ارسال کیے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے اسپین کو عارضی طور پر شینگن زون سے خارج کرنے کا مطالبہ غیر مناسب اور تقسیم پیدا کرنے والا رویہ ہے۔
سیوٹا میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں یورپی یونین کے حکام کا ہنگامی اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں سرحدی سلامتی، غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور ممکنہ مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
سیوٹا شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع اسپین کا خودمختار شہر ہے، جو مراکش کی سرحد سے متصل ہونے کے باعث یورپ میں داخلے کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے یہ علاقہ غیر قانونی ہجرت کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، تاہم حالیہ بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد نے یورپی یونین میں سرحدی سلامتی، شینگن نظام اور مشترکہ امیگریشن پالیسی پر بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!