پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں پاک ایران سرحد کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے نیشنل لاجسٹک سیل کے چار ملازمین جاں بحق ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعے کو گوادر کی تحصیل جیونی سے تقریباً 60 کلومیٹر دور پاک ایران سرحد پر بارڈر پوسٹ نمبر 250 کے قریب پیش آیا۔ گوادر پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم موٹرسائیکل سوار افراد نے ایک پک اپ گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں سوار چاروں افراد موقعے پر جاںبحق ہو گئے۔ پولیس افسر کے مطابق حملہ آوروں نے بعد ازاں گاڑی کو آگ لگا کر تباہ کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتولین نیشنل لاجسٹک سیل(این ایل سی) کے ملازمین تھے اور ان کے پاس بھاری رقم موجود تھی جسے حملہ آور لوٹ کر لے گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو کی شناخت پنجاب کے ضلع لیہ کے چک نمبر 132 کے رہائشی 24 سالہ غلام مصطفیٰ ولد ریاض حسین اور ضلع شیخوپورہ کے 34 سالہ صنم مسیح ولد سلیم کے نام سے ہوئی۔ جبکہ باقی دو افراد 36 سالہ کنول شہزاد ولد دلشاد احمد ٹیچر کالونی، نواں کلی کوئٹہ اور 26 سالہ دانش اقبال ولد فلک ناز سکنہ غنڈی کلی، تخت نصرتی، ضلع کرک خیبرپختونخوا کے رہائشی بتائے جاتے ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک موٹرسائیکل بھی برآمد ہوئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آوروں سے رہ گئی۔ گوادر اور اس سے متصل علاقوں میں گزشتہ کئی برسوں سے غیر مقامی افراد اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہورہے ہیں۔ اس سے قبل بھی گوادر میں غیر مقامی مزدوروں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کی ذمہ داری ماضی میں کالعدم بلوچ شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں تاہم تازہ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔






