پنجگور:نیشنل پارٹی پنجگور کے ضلعی صدر حاجی صالح محمد بلوچ مرکزی ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی پھلین بلوچ مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی اکبر بلوچ ضلعی جنرل سیکرٹری صدیق بلوچ تحصیل صدر تاج بلوچ نے وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبوں خصوصا ًکراچی کوئٹہ چمن شاہراہ کو نکالنے کی وفاقی حکومت کی بدنیتی پر مبنی فیصلے کی شدید مزمت کرتے ہوئے کہا کہ 74 سال گزرجانے کے باوجود وفاق اور اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانی کرنے والے والوں کی زیادتی اور ناانصافی کرنے والے رویہ میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ایسا لگتا ہے وفاق اور اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کی زہنوں میں بلوچستان اس ملک کے کسی بھی کونے میں شامل ہی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان چاروں اکائیوں پر مشتمل ایک ملک ہے آئین پاکستان کے تحت چاروں اکائیوں کے حقوق برابر ہے لیکن وفاق میں حکمرانی کرنے والے بلوچستان کو بطور ایک اکائی تسلیم کرنے میں بھی انکاری ہیں بلوچستان کو ایک مفتوعہ علاقہ قرار دیکر نظر انداز کیا جارہا ہے افسوس کا مقام ہے کہ جب بھ پاکستان میں کوئی حکومت کی تبدیلی ہوئی ہے انہوں نے سب سے پہلے بلوچستان کی محرومیوں کا تزکرہ کرکے بلوچ قوم سے معافی مانگ کر بلوچستان کی محرومیوں کا ازالے کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کیا لیکن اقتدار میں اتے ہی اپنی سابقہ روش پر قائم رہتے ہوئے اپنی پیش روہوں کی طرح ناانصافیوں کا تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے بلوچستان کی وسائل کو لوٹنے اور قبضہ کرنے کی پالیسی پر گامزن رہا ہے بلوچستان کے قومی شاہراہ کراچی کوئٹہ چمن روڈ کو پی آیس ڈی پی سے نکالنا بلوچستان کے ساتھ ماضی کی تسلسل کا حصہ ہے وفاق اور بلوچستان حکومت سے امید رکھنا بلوچستان کے عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ وہ اپنے لانے والوں کی رحم وکرم پر ہیں انھیں عوام اور بلوچستان سے کوئی سروکار نہیں ہے خصوصآ بلوچستان میں حکومت اور عوامی نمائندگی کا کوئی عنصر موجود نہیں یے وزیر اعلی بلوچستان کا بائکاٹ اور واک اوٹ کا شوشہ فقط ایک ڈرامہ اور ناانصافیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے بلوچستان حکومت وفاق اور لانے والوں کی زیادتیوں کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے انہوں نے کہا کہ کراچی کوئٹہ شاہراہ خونی شاہراہ کے نام پر تبدیل ہوچکا ہے کروناوائرس سمیت دیگر قدرتی افت سے زیادہ کراچی کوئٹہ شایراہ نے بلوچستان میں خونی کھیل کھیلا ہے لیکن بلوچستان حکومت کی نااہلی سے بلوچستان روبروز بدترین حالات سے دوچار ہوتے جارہا ہے انکے ناک کے نیچے سب کچھ ہورا ہے مگر وہ بلوچستان کی نمائندگی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے بلوچستان میں زیادہ تر نمائندگی کرنے والے لانے والوں کی منصوبوں پر عمل پیرا ہوکر یا تو خود کو قرنطینہ میں ڈالا ہے یا تو زبان منہ چہرے پر چھپ کا ماسک پہن کر خاموشی سے تنخواہ اور مراعات وصول کرنے میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ترقی قوموں کی شناخت اور پہچان کا دور ثابت ہورہا ہے لیکن بلوچستان کے عوام اپنے حقیقی نمائندوں سے محروم سڑک بجلی پانی ہسپتال کا رونا رو رہے ہیں بلوچستان اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں بلوچستان کے مفادات کے برخلاف اقدامات عروج پر پہنچ گئے ہیں وفاق سے لیکر صوبے تک نمائندگی کرنے والوں نے بلوچستان کے عوام کو یکسر مایوس کردیا ہے جس کا خمازہ بلوچستان کے عوام ہر روز بھگت رہے ہیں ایک دن ایسا نہیں جس سے بلوچستان کے عوام سکھ کا سانس لے سکے۔
