ماشکیل:(نامہ نگار) سیاسی قبائلی رہنماء سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی میر احسان الہی ریکی، سابقہ کونسلر ماشکیل میر جیئند خان ریکی نے جاری کردہ بیان میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کو بلاوجہ اور اس احتجاج کے دوران بلوچستان کے اعلی پایہ کے شخصیت وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان آلیانی اور انکے خاندان کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جنکی کسی بھی صورت بلوچستان کے روایات میں گنجائش نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے عجیب و غریب مطالبات ہیں یہ چاہتے ہیں کہ انکے ذاتی پسند و ناپسند کے اسکیمات بجٹ میں شامل کئے جائیں اور ساتھ ہی پولیس ایس ایچ او سے لیکر تمام محکمہ جات کے آفسیران انکی مرضی کے مطابق ہوں جسکی آئین و قانون میں کوئی گجائش نہیں۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ احتجاج کے دوران ایک وائرل ویڈیو میں قوم پرست پارٹی کے رکن سمبلی نازیبہ ناشائستہ انداز میں پولیس حکام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے قابل قدر معززین کے متعلق سخت و نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا یہی لوگ بلوچستان میں اقدار و روایات کی بات کرتے ہیں مگر انھیں چائیے کہ اول کسی اچھے درسگاہ میں بلوچستان کے روایات کے متعلق درس لیں پھر عوامی مقامات پر آکر باتیں کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے پسماندگی کا سب سے بڑا سبب یہی رہا ہے کہ سابقہ ادوار میں ہر ایم پی اے کو نوازا گیا ہے اور اجتماعی نوعیت کے اسکیمات کے بجائے ذاتی و فردی اسکیمات کے ذریعے کرپشن کا بازار گرم رکھا گیا ہے مگر اب یہ نوازنے والی پالیسی اس دور حکومت میں ختم کی جاچکی ہے جس سے ہر جون کے مہینے میں اپوزیشن کو احتجاج کا راستہ دکھائی دیتا ہے مگر بلوچستان کے عوام نے احتجاج کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔






