چاغی( نامہ نگار) چاغی نوید خان سنجرانی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ حکومت بلوچستان کے نااہلی کی وجہ سے ٹڈی دل کے حملے سے چاغی سمیت رخشان ڈویژن میں فصلات تباہ ہوگئے بلوچستان پہلے سے پسماندگی کا شکار ہے جس کا دار و مدار زراعت پر ہے لیکن موجودہ ٹڈی دل کے حملے سے ضلع چاغی کے زمینداروں کا بڑا نقصان ہوا ہے حکومت اور متعلقہ محکمے ٹڈی دل حملے کو سیریس نہیں لیا جارہا صرف برائے نام اسپرے کو یکسر مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہا عملی طور پر ٹڈی دل کو کنٹرول نہیں کیاگیا تو بلوچستان میں زراعت مکمل طور پر تبا ہوگا موجودہ صورتحال سے زمیندار سخت پریشان ہے اگر بلوچستان میں ٹڈی دل کے باعث زراعت تباہ ہوئے تو معشیت میں بھی اثرات پڑے گے اگر حکومت بلوچستان پہلے سے ٹڈی دل کے خلاف حکمت عملی اور حفاظتی اقدامات کرتے تو زمینداروں کو اتنا نقصان نہ ہوتے اس وقت پورا ضلع چاغی خاص کر چاغی ٹڑی دل فصلات شدید حملہ اور انہوں نے کہا کہ اب حکومت بلوچستان اور متعلقہ محکمے کو چائیے کہ وہ جنگی بنیادوں پر زراعت کو بچانے کےلئے حفاظتی اقدامات اٹھائیں اور ٹڈی دل سے نقصانات کے ازالہ کے لئے زمینداروں کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے






