کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرسینیٹرمیرکبیراحمدمحمدشہی نے کہاہے کہ تبدیلی سرکار نے 71کھرب 37ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں بلوچستان جو ملک کانصف حصہ ہے کیلئے صرف دس ارب مختص کیے ہیں جو ناانصافی کی انتہا ہےیہ ماہانہ ایک ارب روپے بھی نہیں بنتے رواں بجٹ میں بھی بلوچستان کیلئے 80ارب روپے مختص کیے گئے مگرریلیز صرف14ارب روپے ہوئے جس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وفاق بلوچستان کی ترقی میں کس قدر سنجیدہ ہے گلگت بلتستان جس کا رقبہ بلوچستان کے قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے بھی کم ہے کیلئے بلوچستان سے آٹھ گنازیادہ بجٹ رکھاگیاہے بجٹ میں بلوچستان عام آدمی اور سرکاری ملازمین کیلئے کچھ نہیں انہوںنے کہاکہ کئی ماہ سے بلوچستان کی دوسیاسی جماعتیں کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دورویہ کرانے کا سہرا اپنے قائدین کو دے رہی تھیں بجٹ میں اس کا ذکر تک نہیں وزیراعلی بلوچستان کے احتجاج کے باوجود زیادہ ترمنصوبے بجٹ میں شامل ہی نہیں کیے گئے انہوں نے کہاکہ بجٹ میںسرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیالیکن ایف آئی اے، نیا پاکستان ہاﺅسنگ نیب سمیت مختلف اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں پہلے ہی گزشتہ سال ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کافی بڑھائی گئی جنہیں بجٹ میںریگولرکیاگیاہےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں امتیازی فرق ختم کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ چھوٹے تاجروں کے لیے آسان قرضہ اسکیم کا اجرا نہیں کیا گیا چھوٹا کاروبار 40 فیصد ورک فورس کو روزگار فراہم کرتاہے، ناقص حکومتی پالیسیوں نے 51 ارب ڈالر کی معیشت تباہ کردی ہے ناکام حکومت کورونا کے پیچھے چھپنا چاہتی ہےحکومت فائلر اور نان فائلر کا چکر چلا کر بری الزمہ نہیں ہوسکتی بنکوں سے نقد رقوم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ نہیں کیا گیا آٹے، چینی، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کے لیے سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔






