مزید 28 سرکاری ادارے نجکاری کیلئے مختص، معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، محمد اورنگزیب

مزید 28 سرکاری ادارے نجکاری کیلئے مختص، معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، محمد اورنگزیب

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی :وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ریاستی اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کیلئے متحرک ہے اور نجکاری کمیشن کو مزید 28 سرکاری ادارے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، مالی سال 2025-26 کا اختتام مثبت معاشی اشاریوں کے ساتھ ہوا اور حکومت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال بڑی صنعتوں کی بہتر کارکردگی کے باعث مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ ترسیلات زر میں نمایاں اضافے سے کرنٹ اکاو¿نٹ مستحکم رہا۔ ان کے مطابق مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا حجم 41 سے 42 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ ویلیو ایڈڈ برآمدات نے بھی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور ملک نے یورو بانڈز سمیت عالمی سرمایہ مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔ پانڈا بانڈز کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت دیگر بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے بھی استفادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 ابتدائی عوامی پیشکشیں (آئی پی اوز) متعارف کرائی گئیں، جبکہ نوجوان سرمایہ کار، خصوصاً جین زی، سرمایہ کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے بین الاقوامی امداد طلب کرنے کے بجائے اپنے وسائل بروئے کار لائے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے تاکہ چھوٹے کاروباروں کو فروغ مل سکے۔ تعمیراتی شعبے کو بھی ریلیف دیا گیا ہے جبکہ زرعی مشینری پر تمام درآمدی ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے ریٹیل سیکٹر کو بھی ٹیکس نظام میں شامل کر رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فائنل ٹیکس رجیم برقرار رکھنے کے بجائے ایک آسان، شفاف اور مو¿ثر ٹیکس نظام متعارف کرانا چاہتی ہے، کیونکہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں ہر شہری کو اپنی استطاعت کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران روشن ڈیجیٹل اکاو¿نٹس میں ماہانہ سرمایہ کاری 18 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو مالی وسائل تک بہتر رسائی فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ نان بینکنگ مالیاتی اداروں کو بھی معیشت میں اپنا کردار مزید مو¿ثر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ورچوئل اثاثوں کے شعبوں میں پیش رفت کیلئے دسمبر 2025 میں ایکسچینج کمپنیوں کو این او سیز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ کمرشل بینکوں کو سائبر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے ساتھ تجارتی روابط بحال کرنے کی کوششیں ابتدائی مرحلے میں ہیں اور حکومت کو امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے، جبکہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔اس موقع پر پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی بینکاری شعبے نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے اپنی ایگزیکٹو کمیٹی میں پہلی مرتبہ دو خواتین کو بھی شامل کیا ہے، جبکہ بینکاری شعبہ ایس ایم ایز، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں میں مالی معاونت کو فروغ دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بینکاری صنعت سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس قومی خزانے میں جمع کراتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران زرعی قرضوں میں 39 فیصد، ہاو¿سنگ فنانس میں 90 فیصد، جبکہ ایس ایم ایز کے قرض لینے والوں کی تعداد میں 111 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں ایس ایم ایز کو جاری قرضوں کی مجموعی مالیت میں 80 فیصد اضافہ ہوا۔ظفر مسعود نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال بینکوں نے بجلی کے گردشی قرضے کم کرنے کیلئے 2 ہزار 400 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے، جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں نجی شعبے کو 300 ارب روپے کی مالی معاونت بھی فراہم کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!