پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سینیٹر رضا ربانی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مالی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی اتنی جرات ہے کہ وہ پاکستان میں دفاعی بجٹ کو منجمد کردے۔سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ کے 6 ستون ہیں، آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن، بجٹ میں کیپیٹلزم کا گٹھ جوڑ، مافیا، صوبوں کے حصہ کو کم کرنا اورائی ایم ایف کے اسٹافرز سے بات کرکے بجٹ بنانا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اتنی مداخلت آئی ایم ایف کی جانب سے پہلے کبھی نظر نہیں آئی کہ عالمی مالیاتی ادارے کے کہنے پر تنخواہ اور پنشن کو منجمد کردیا گیا۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں میں انھوں نے پہلے ہی اضافہ کر دیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے اثرات بتاتے ہیں کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بروقت اور مستقل بنیادوں پر فیصلے کیے۔
رضا ربانی نے بتایا کہ برطانیہ میں 20 فیصد معیشت برباد ہوئی، اٹلی فرانس اسپین کے جی ڈی پی میں کمی ہوئی، امریکا میں 20 ملین افراد بے روزگار ہوئے، ترکی میں 19 سال کا بدترین معاشی بحران سامنے آیا جبکہ بھارت حالیہ اپنی معیشت کی بدترین سطح پر ہے۔سینیٹر رضا بانی نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں عام انسان کے لیے کچھ نہیں، موجودہ بجٹ، بجٹ ہے بھی نہیں بلکہ ایک دھوکا ہے جو ہمارے سامنے رکھا۔انہوں نے کہا کہ اصل بجٹ آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا ہوا ہے۔
