تحر یر ۔ڈاکٹر عرفان احمد بیگ
قدرتی آفات میں زلزلے ، سیلاب ، طو فان ،خشک سالی و قحط ،سمندری طوفان، ٹڈی دل، اور وبائی امراض شامل ہیں اور یہ قدرتی آفات اتنی ہی پرانی ہیں جتنا خود انسان بلکہ بعض قدرتی آفات تو انسان سے بھی زیادہ قدیم ہیں اگر چہ یہ ساری آفات ہی تباہ کن ہوتی ہیں اس لیے انسان اِ ن سے خو فزداہ رہتاہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اِن قدرتی آفات میںسے سب سے زیاد ڈرانے والی آفت وبائی بیماری کی صورت میں ہو تی ہے انسانی تاریخ میں کئی مرتبہ ایسی وبائی بیماریاں آئیں کہ اس کے ایک ہی وار سے کسی ملک یاخطے یا کچھ ملکوں میں کروڑدو کروڑ فراد ہلاک ہو ئے ،اس بار جب دنیا میں کرونا وائرس نامی وبائی بیماری نومبر 2019 میں چین کے شہر وہان میں رونما ہو ئی شروع تو اسے امریکہ ،سمیت پوری دنیا میں خصوصاً سوشل میڈیا کی بنیادپر عجیب اور قدرے مزاحیہ اندا زسے دیکھا لیکن چند روز بعد ہی جب کرونا وائرس چین سے نکل کر دوسرے ملکوں میں آئی تو سب کو تشویش ہوئی چین کے فوراً بعد سب سے زیاد متاثر ہمارا دوسرا ہمسایہ ملک ایران ہوا جس سے طویل سرحدیں پاکستان میں صوبہ بلو چستان سے ملتی ہیںدنیا میں سب سے بڑی آبادی کے منظم معاشرے اور ون پارٹی سسٹم کی دنیا کی مستحکم حکومت اور ملک چین نے فروری 2019 سے رونما ہونے والی وبائی بیماری کو مکمل اور منظم ترین لاک ڈاﺅن کی اسٹرٹیجی کو اپنا کر 22اپریل 2020 تک پوری طرح کنٹرول کر لیا چین سے کرو نا کی وبائی بیماری پاکستان نہیں آئی البتہ یہ ضرور ہے اس بیماری نے پہلی دستک بلو چستان میں پاک ایران سرحد تفتان پر دی جب زائرین کو ویزا ختم ہو نے پر قانون کے مطابق لا زمی پاکستان آنا تھا ،اس موقع پر بلو چستان کے وزیر اعلیٰ نے فوری توجہ وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ اداورں کو دلائی اور صوبہ بلو چستا ن میں 22 فروری سے کو شش کی کہ اپنے محدود وسائل سے زائرین کو پاک ایران تفتان بارڈر پر چودہ دن کے لیے روکے رکھیں تاکہ اس دوران یہ واضح ہو جائے کہ کس کس کو کرونا کی بیماری ہے یوں نہ صرف بلو چستان بلکہ پورے پا کستا ن میں اس کے پھیلاو کو روکنے کی کامیاب کوشش کی جائے اور یہ حقیقت ہے وزیر اعلیٰ بلو چستان جام کمال خان کی یہ کوششیں بہت حد تک کامیاب رہیں ، وزیر اعلیٰ نے اُس وقت وفاق او ر دیگر صوبائی حکومتوں کو بتا یا کہ اکثرزائرین کا تعلق دیگر صوبوں سے ہے اور اس کا پورا بوجھ محدو د و مالی سائل کے صوبے بلوچستان پر اکیلے نہ ڈالا جا ئے تقریباً ایک ماہ تک کسی صوبے نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس دوران ٹرانسپورٹ بھی بلو چستان حکومت نے فراہم کی 23 مارچ کو بلو چستان میں بھی پورے ملک کی طرح لاک ڈاﺅن شروع کر دیا گیا یہاں یہ واضاحت بھی ضروری ہے کہ جنوری فروری ہی میں جب کر ونا کی وبائی بیماری کی قدرتی آفت رونما ہو رہی تھی تو بلوچستان کے کئی اضلاع میں ٹڈی دل جیسی قدرتی آفت آگئی تھی اور یہاں بھی وزیر اعلیٰ جام کما ل خان نے وفاق اور دیگر صوبوں کو اس کی اطلاعات فراہم کردیں تھیں پھر 2018 اور2019 سے بلو چستان کے تقربیا ً نصف اضلا ع خشک سالی کی زد میں تھے یوں بد قسمتی سے بلو چستان کو تین طرح کی قدرتی آفات کا بیک وقت سامنا کر نا پڑا رہا ہے،جہاں تک تفتان باڈر پر کرونا کے خطرے کا تعلق تھا تو اس سلسلے میں 22 فروری ہی کو وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے درمیان مسئلے سے نبٹنے کے لیے مشاورت ہو ئی تھی اور وزیراعلیٰ نے جس انداز سے محدود وسائل کے تحت بلو چستان سے زائرین کو پورے ملک میں اپنے گھروں کو بھیجا اور مسئلے کو حل کیا اس کا اعتراف وزیر اعظم عمران خان سمیت وفاقی حکومت ،اور فوج نے کیا، اس کی ایک اہم اور بنیاد ی وجہ یہ تھی کہ بلو چستان متنوع لسانی اور مذہبی مسالک رکھنے والے معاشرے کا صوبہ ہے اوریہاں کرونا کے مسئلے کے ساتھ ساتھ اُن دشمن عزائم رکھنے والوں کی سازشوں کو بھی ناکام بنانا تھا جو معاشرتی سماجی تنوع کے حسن کو تضادات اور تنازعات میں تبدیل کر کے صوبے اور ملک کو نقصان پہنچا ناچاہتے تھے ،مارچ تک وزیراعلیٰ نے اس بنیادی مسئلے کو حل کیا ،اور ساتھ ہی بلو چستان میں کرونا کی وبائی بیماری کے پھیلاﺅ کو روکنے کی کامیاب کو شش کی اور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی اس مسئلے کے اعتبار سے سب سے بڑا چیلنج بلو چستان کے لیے رہا اس کی ایک بنیا دی وجہ یہ ہے کہ بلوچستا ن ملک کے کل رقبے کا43.6% ہے اس لیے جب کبھی بھی کو ئی قدرتی آفت آتی ہے تو یہ رقبے کی بنیاد پر ملک میں سب سے زیادہ بلو چستان کو متاثر کر تی دو برس پہلے کی خشک سالی سے بلو چستان کے تمام 33 اضلاع متا ثر ہو ئے اور اب ٹڈی دل سے ملک کے تقریباً 56اضلاع شدت سے متا ثر ہو ئے ہیں جن میں سے 33 اضلاع بلو چستان کے ہیں یہ درست ہے کہ کرونا کی وبائی بیماری سے آبادی زیادہ متاثر ہو ئی اور چونکہ بلو چستان میں ملک کی کل آؓبادی کا صرف 6% آبادی ہے اس لیے یہاں یہ وبائی بیماری بھی اسی تناسب ہے مگر اس حقیقت کو وفاقی اور باقی صوبوں نے تسلیم کیا ہے بیرون ملک سے واپس آنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور زمینی راستے سے اِن کی اکثریت بلو چستان ہی سے ملک میں آرہی ہے اور پاکستان واپس آنے والوں کی 95% اکثریت دوسرے صوبوں کی ہے اور پھر نہ صرف پا ک ایران باڈر تفتان کے مسائل کو کر ونا وائرس کی بنیاد پر بلو چستان کی صوبائی حکومت حل کر ر ہی ہے بلکہ کراچی اور اب گوادر کی بندر گاہوں سے افغانستان کو رہدارہی اور تجارت کی سہولت پا کستان نے دے رکھی ہے اُس اعتبار سے بھی بیشتر مسائل کو کرونا کی وبائی بیماری کے تناظر میں بلو چستان کی صوبائی حکومت نے ہی حل کیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جارہی ہے تفتان اور چمن باڈر پر جو مسائل پیش آتے رہے اُن کو بھی وزیراعلیٰ جام کمال بہت خوش اسلوبی سے حل کرتے رہے ہیں یوں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کرونا کی وبائی بیماری کے جو بین الالصوبائی اور بین الا قوامی مسائل ہیں وہ بھی بلو چستان کو اپنے وسیع رقبے کی بنیاد پر حل کر نے پڑ رہے ہیں بلو چستان کے وزیرا علیٰ کو دکھ بھی ہے کہ قدرتی آفات کے موقعوں پر بلوچستان اپنے وسائل سے دوسرے صوبوں اور وفاق کو بھی کا فی بو جھ اٹھا رہا ہے لیکن اس کے لیے فی الحال وفاق کی جانب سے کو ئی خصوصی گرانٹ یا مخصوص فنڈ نہیں دیا جار ہااور نہ ہی دوسرے صوبے اس کا ادارک اور احساس کر رہے ہیں،بلو چستان میں بھی کرونا دوسرے صوبوں کی طرح بیرون ملک ہی سے آیا اور پھر مقامی طور پر یہ وبابڑھی 14 جون 2020 کو جب یہ سطور لکھی جارہی تھیں تو اُس وقت بلو چستان بھر میں کرونا کے کنفرم کیسز کی تعداد 8028 تھی 2795 صحت یا ب ہو چکے تھے اور 83 اموت اب تک کرونا سے ہو چکی ہیں جن میں چند ڈاکڑ پیرمیڈ یکل اسٹاف اور فورسسزکے شہید بھی شامل ہیں وزیر اعلی بلو چستان نے ایسے تمام شہدا کو نہ صرف خراج عقدت پیش کیا بلکہ سرکاری طور پر ان کے پسماندگان امدادی بھی کی وزیر اعلیٰ روزانہ ہی سب سے زیادہ ترجیح کرونا ہی کے مسئلے کو دیتے ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے کم سے کم آٹھ سے دن کے اندر اعلی ٰ سطحی اجلاس کرتے ہیںاس حوالے سے تازہ اجلاس 8 جون2020 کو وزیراعلیٰ ہی کی صدارت میں ہو اتھا جس میں پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ بلیدی، سیکرٹری صحت دوستین خان جمالدینی ، ایڈیشنل سیکر ٹری داخلہ ،آئی جی پو لیس ،سیکرٹری خزانہ ایڈیشنل آئی جی سیکرٹری اسپورٹس، انچارچ ریجنل بلڈسنٹر ڈی جی پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ،ڈی جی صحت،ڈی جی زراعت،ڈی جی تعلقات عامہ،اور ماہرین صحت خصوصاً ریسرچ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی جنکے مطابق بلوچستان میں کرونا مسئلہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کنٹرول میں تھا اور اموات کی تعداد کم ہو ئی تھیں سہولتوں کے اعتبار سے بتا یا گیا کہ کو ئٹہ کے فاطمہ جناح ہسپتال میں 1500 افراد کے شیخ زید ہسپتا ل میں 50 افراد اور بی ایم سی میں24 افراد کے لیے ٹیسٹ کی سہولت مو جود ہے شعبہ صحت کی جانب سے بتا یا گیا صوبے میں 29919 وی ٹی ایم اور 21037 ٹیسٹنگ کیٹ موجود ہیںنیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی 10 ایکسرے مشینیں فراہم کر رہی ہے اسی طرح خضدار تربت اورژو ب کو ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے اور آئی یو سی بیڈ ز ضروری آلات ، اور مشنری کے لیے فنڈز بھی جاری کئے جا چکے ہیں حال ہی میں کر ونا وائرس کی وبائی بیماری سے صحت یاب ہو نے والے افراد کے خون کے پلازمہ سے تھراپی کے طریقہ علاج سے اموات کا تناسب مزید اور کافی کم ہو اہے ریجنل بلڈ سنٹر کے انچارج ڈاکٹر فاروق احمد نے بتا یا کہ یہ سنٹر ملک کے نو سنٹر ز میں سے ایک ہے اور صوبے کا واحد سنٹر ہے جہاں سے کرونا میں مبتلا افراد جب صحت یا ب ہو جاتے ہیں تو اُن کی مرضی سے اُن سے خون کے پلازمہ کا عطیہ لیا جا تا ہے یہ خون کا پلازمہ دوسرے کرونا کے مریضوں کے لیے فراہم کیا جا تا ہے ،کرونا وائرس کے سماجی اثرارت اور کنٹرول کے اعتبار سے سیکرٹری خزانہ نورالحق بلوچ نے بلا سود قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے بتا یا کہ 3366 درخوستیں وصول ہو ئی تھیں2459 کی منظوری ہو ئی اور8 جون تک 1617 فراد کو 3 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار روپے کے قرضے فراہم کر دئیے گئے صوبے میں خوراک کی سپلائی کی تفصیلات بیان کرتے ہو ئے انچارچ کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر عمران گچکی نے د ال ،چینی اور دیگر اشیا خوردی کی دستیابی کی صورتحال کو اطمینان بخش قراردیاانہوں نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ گندم کی خریداری جاری ہے اور ساتھ ہی صوبے میں ڈینگی ،ملیریا اور ٹڈی دل کے خطرات سے آگاہ کیا، یہ بھی طے پایا کہ سرکار ی ہسپتالوں میںمحدود پیمانے پر او پی ڈی کھول دی جائے لاک ڈاﺅن کی صورتحال کے بارے میں طے پا یا کہ ایس او پی پر عملدآمدنہ کرنے والوں کے خلا ف سخت اور بلا امتیاز کاروائی کی جا ئے وزیر اعلی نے ایم ایس ڈی کو فوری ہدایت کی کہ ریجنل بلڈ سنٹر کو فوراً ادیات اوردیگر اشیا فراہم کی جائیں انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے فوری اور بروقت اقدامات نہ کئے جائیں تو پھر حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں اس لیے تمام محکموں کو فوری اقدامات کر نے ہو ں گے اور خصوصاً اِن حالات میں فیصلوں پر عملدر آمد میں ذرا سی تا خیر برداشت نہیں کی جا ئے وزیر اعلیٰ جام کمال خا ن نے آخر میں کرونا سے شہید ہو نے والوں کے لیے دعامغفرت اور کر ونا سے لڑ نے والوں کے لیے جرات وشجا عت کی دعا کی کرونا کے مسئلے نے فروری میں بلو چستان کے دروازے پر دستک دی تھی اُس وقت سے وزیراعلی جام کمال متواتر اس مسئلے اور دیگر مسائل کے خلاف اپنی مخلو ط صوبائی حکومت کے اراکین اور عوام کے تعاون سے جد وجہد میں مصروف ہیں اُنہوں نے قومی سطح پر بھی کرونا کی روک تھام میں اہم ترین کردار ادا کیا اور صوبے میں بھی کرونا کو محد ودسے محدود کرنے کی کامیاب کوشش کر رہے ہیںجام کمال خان نے آفت کے اس دور میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلو چستان نے قومی سطح پر کرونا کی روک تھام میں پچاس فیصد حصہ ڈالا اور اسی طرح ملک بھر میں کر ونا کی روک تھام کے اعتبار سے قومی سطح پر جام کمال خان اہم ترین شخصیت قرار پاتے ہیں ۔
