کابل اور دہلی سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو ہم سے کیوں نہیں ،پی ٹی ایم

کابل اور دہلی سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو ہم سے کیوں نہیں ،پی ٹی ایم

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

وزیر دفاع پرویز خٹک کی طرف سے پشتون تحفظ مومنٹ کو مذاکرات کی تازہ دعوت اتوار کو دی گئی، جس کا پی ٹی ایم کے ایم این اے محسن داوڑ نے خیر مقدم کیا۔لیکن وزیر دفاع اس سے پہلے بھی پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کر چکے ہیں اور وہ بے نتیجہ رہے۔ اس لیے ملک میں کئی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس بار یہ کوئی سنجیدہ پیشکش تھی یا محض ایک سیاسی بیان۔پی ٹی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا ہے کہ انہیں مذاکرات کا تلخ تجربہ ہے۔ "مذاکرات تو دشمن سےبھی کیے جاتے ہیں اور ہم تو ہمیشہ ہی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اگر ملک میں حقیقی معنوں میں اختیار سیاسی جماعتوں کے پاس ہوتا تو مذاکرات کامیاب بھی ہوتے اور مسائل حل بھی ہوتے۔ یہاں طاقت کسی اور کے پاس ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے ننانوے فیصد مسائل دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق ہیں۔ "پرویز خٹک میں سکت نہیں کہ وہ ان مطالبات کو حل کرا سکیں یا وہ کوئی بامعنی مذاکرات کرسکیں لیکن پھر بھی ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!