تبدیلی سرکار عوام کیلئے کچھ کرے

تبدیلی سرکار عوام کیلئے کچھ کرے

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

محمد رمضان اچکزئی

ہر آزاد اور خود مختار ملک اپنے ریاستی امور کو چلانے کیلئے ٹیکس کا نفاذ کرکے آمدن اکھٹا کرتا ہے ۔ امور مملکت اور ریاستی ادارے دفاع، فلاحی کاموں، ترقیاتی کاموں اور ملک کے تمام صوبوں کے اس اکھٹا شدہ آمدن میں سے تمام امور کیلئے اخراجات کرتے ہیں۔ ایسے تمام آزاد اور خودمختار ممالک ترقی یافتہ اور ویلفیئر اسٹیٹ بن چکے ہیں ۔ اب ایسے ملکوں میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے انھیں فوری اور سستا انصاف دیاجانا ،روزگار، تعلیم اور صحت کا بندوبست حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔جوشہری روزگار حاصل نہیں کرسکتے انھیں تعلیم اور ہنر سے آراستہ کرکے ان کے روزگار کا بندوبست کیا جاتا ہے اور اگر کوئی شہری بے روزگار ہو تو سماجی تحفظ کے طور پر انھیں ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی بہتر طور پر گزار سکتے ہےں۔ ایسے ممالک میں ریاست کے شہریوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں اور ہر شہری کو آئین اور قانون کے مطابق برابری کی حیثیت سے ان کے مسائل ریاست حل کرتی رہتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارا ملک دنیا کے نقشے پر آزاد اور خود مختار ہے لیکن اس ریاست کو پہلے دن سے عارضی بنیادوں پر چلایا جارہا ہے۔ یہاں حکمران طبقے میں سرمایہ دار، جاگیردار، صنعتکار، سول اور فوجی بیوروکریٹ، خاندانی سیاستدان اور ان کی پارٹیاں ،مفلوج عدالتیں اور کاروباری میڈیا شامل ہیں جبکہ 22 کروڑ عوام جمہوریت کے نام پر ووٹ دیتے ہیں اور سالہا سال جمہوریتوں اور آمریتوں کے زخم کھا کر زندگی گزار تے ہیں۔ ریاست کو بین الاقوامی طاقتور ملکوں کے زیر اثر رکھا گیا ہے، ملک کو چلانے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہو رہی ہے۔ اس وقت ملک بین الاقوامی دباﺅ اور بھارت جیسے مکار دشمن کے حملے کے خطرے میں ہے لیکن ملک میں برسراقتدار اور اپوزیشن کے ٹولے سمیت تمام ادارے ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ادارہ ملک سے بالا تر ہو کر چلے۔ یہی وجہ ہے کہ اندونی خلفشار نے معاشرے کو تقسیم کیا ہے ۔ تمام سیاسی حکمران اور اپوزیشن پارٹیاں حالات کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت ضروری ہے کہ عدلیہ آزاد ہو جو آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرے، حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پانچ سال کا عرصہ پورا کرے، حکمران جماعت انصاف ، احتساب اور مساوات کیلئے تمام پارٹیوں کے ساتھ مل کر قانون سازی کرے ، ادارے حکومتی اشاروں پر چلنے کی بجائے آئین ، قانون ، عدل اور احتساب کے فیصلے کرے۔ حکومت اپنے مینڈیٹ کے تحت 22 کروڑ عوام کی خوشحالی کیلئے منصوبہ بندی اور فیصلے کرے لیکن گزشتہ دو سال گزرنے کو آرہے ہیں وزیر اعظم عمران خان اور اس کی پارٹی پہاڑ پر چڑھی ہوئی ہے۔ حکومت ہر ادارے اور شخص کی زبان بندی کو مسائل کا حل سمجھتی ہے لیکن اس طریقے سے ملک کو چلانا مشکل سے مشکل تربن رہا ہے۔ ملک کے اندر سیاسی، مذہبی اور دیگر شہریوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان پیدا ہو رہا ہے ۔ ملک اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہو کر کمزوری کی طرف جارہا ہے۔ ایسے موقع پر حکومت نے 12جون کو اپنا دوسرا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے سود اور حکومتی اداروں کے اخراجات کور کئے گئے ہیں۔اس بجٹ کے ذریعے دولت مندوں پر براہ راست ٹیکس اور ملک کے اندر اور باہر بڑی بڑی جائیدادوں، بڑی بڑی گاڑیوں، لگژری آئٹمز، کھرب پتیوں اور ارب پتیوں پر ٹیکسز نہیں لگے ہیں اس لئے حکومتی آمدن ہدف بھی پورا نہیںکر سکے گا۔ جبکہ اس بجٹ میں 208 ارب روپے احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں میں تقسیم کا پلان ہے۔ سبسڈیز صنعتکار اور زراعت پیشہ سرمایہ دار لے جاتے ہیں جبکہ سبسڈی کی معمولی رقم یوٹیلیٹی سٹور میں کم نرخ پر غریبوں کو سامان کی فراہمی کیلئے استعمال ہونی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر اعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کو ریاست مدینہ کے ماڈل کی طرف لے جائیں گے۔ ریاست مدینہ میں خلیفہ اورمزدور کی تنخواہ برابر تھی۔ خلیفہ کا احتساب سب سے پہلے ہوتا تھا اور قاضی خلیفہ کے خلاف فیصلہ دے سکتا تھا لیکن ہمارے ملک کے ریاست مدینہ کے ماڈل میں صدر مملکت نے اپنی تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے سے نو لاکھ روپے تک پہنچایا، وزیر اعظم کی تنخواہ بھی آٹھ لاکھ تک بڑھائی گئی ، وزیروں، مشیروں، ایم این اےز، سنیٹر ز اور ایم پی ایز کی تنخواہیں جب منتخب نمائندے چاہے تو بڑھادیتے ہیں ، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریسی کی تنخواہیں ان کی طاقت کے مطابق لاکھوں میں بڑھائی گئی ہے، سیکریٹریز کو دو لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ ، سیکریٹری الاﺅنس مل رہا ہے، یوٹیلیٹی کے بل مل رہے ہیں، ججوں کو جوڈیشل الاﺅنس لاکھوں میں مل رہا ہے جبکہ یہ سارا مراعات یافتہ الیٹ طبقے کے لوگ کئی کئی مربعے زمینیں اور اسلام آباد سمیت ملک کے کونے، کونے میں پلاٹوں کے مالک بھی بن چکے ہیں دوسری طرف عام مزدور کی تنخواہ 17 ہزار روپے مقرر ہے جو انھیں نہیں مل رہا بلکہ 10 ہزار سے کم پر مرد اور خواتین کام کر رہے ہیں۔ اب اس 10 ہزار سے روٹی ، کپڑا اور مکان سمیت دیگر ضرورتیںکیسی پوری ہو سکے گی۔اس کیلئے حکومت کا عزم درکار ہے کہ حکومت اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ مکانات شہریوں کو فراہم کرے۔ ہر شہری کو ہرمندی سیکھا کر روزگار دینے کے قابل بنایا جائے۔ ہر شہری کو تعلیم، صحت تک رسائی حاصل ہونی چاہیے، ملک میں زراعت اور صنعت کا پہیہ چلنا چاہیے، امپورٹ کو ہر صورت اور ہر حال میں کم سے کم رکھا جائے اور امپورٹ کیلئے اس ملک میں سرمایہ کاری کی بنیاد ڈالی جائے تاکہ اس ملک میں بننے والی چیزیں دوسرے ملکوں کو برآمد کرکے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکے۔ بیرون ملک میں شہریوں کیلئے کام اور روزگار کے زرائع حکومتی سطح پر پیدا کئے جائیں تاکہ بیرون ملک سے کام کرنے والوں کی آمدنی ملک میں آنے سے زرمبادلہ کے زخائر بڑھے ۔ مہنگائی کو ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سطح پر کنٹرول کرنے کا بندوبست کیا جائے اور ایک یا دو مجسٹریٹ کی ڈیوٹیاں پرائس کنٹرول کیلئے مقرر ہونے چاہیے۔ دوکانداروں اور کاروباریوں سے کہا جائے کہ وہ سرکاری نرخ کے مطابق شہریوں کو اشیائے خود و نوش فراہم کرے۔ موجودہ بجٹ میں اعلیٰ حکام کی تنخواہیں اور مراعات کی تنخواہیں کم کرکے گریڈ 01 سے 16 کے مزدور طبقے کے پنشن اور تنخواہوں میں 50% اضافہ کیا جائے تاکہ ایسے تنخواہ دار ملازمین اور مزدور اپنی قلیل تنخواہوں سے زندگی گزار سکے۔حکومت کو چاہیے کہ و ہ گریڈ 01 سے 22 کا اس بجٹ میں خاتمہ کرے اور صرف 06 گریڈ رکھے جائے جس میں گریڈ 01 سے 16 تک تین اور گریڈ 17- سے 22 تک تین گریڈ ہو ۔ حکومت یہ بھی دیکھے کہ اعلیٰ سطح پر آفیسروں، کنسلٹنٹ اور دوسرے بڑے سرکاری پروفیشنلز کی بلا ضرورت تقرریاں ہوئی ہیں۔ اس میں اصلاحات لاکر 50% سے زیادہ کی آسامیوں ختم کی جائے ۔ اسی طرح پنشن کا ایک نظام متعارف ہو جس میں تمام آفیسروں اور اہلکاروں کو ملازمت کے بعد مساویانہ پنشن ملے تاکہ بڑھاپے میں ہر شہری باعزت طریقے سے زندگی گزارسکے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت تبدیلی کے نعرے کے ساتھ آئی ہے اب یہ تبدیلی پہلے سے مزید تباہی ہے یا پہلے سے بہتری کی طرف اقدام ہے اس کا فیصلہ آنے والے وقتوں میں ہوگا جس سے وزیر اعظم عمران خان اور اس کی پارٹی پی ٹی آئی حکومت پر عوام کے اعتماد کا اندازہ کیا جاسکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!