بلوچستان میں انٹرنیٹ ہی نہیں تو آن لائن کلاسز کیسے ہوں گے ‘ اسلم بھوتانی

بلوچستان میں انٹرنیٹ ہی نہیں تو آن لائن کلاسز کیسے ہوں گے ‘ اسلم بھوتانی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد : رکن صوبائی اسمبلی اسلم بھوتانی نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ پر بولنے پر متعلقہ وزیر صاحبان ہوتے ہیں مگر یہاں وزیر صاحبان نہیں ہیں بجٹ پر کیا بات کروں نہ کوئی نوٹ لینے والا ہے نہ سننے والا ہے بلوچستان اسمبلی کا اسپیکر تھا تو وہاں بجٹ پر جب تقریر ہوتی تھی جو فنانس منسٹر ہوتے ہیں اگر وہ نہیں ہوتے تو متعلقہ ممبر نوٹ کر کے فنانس منسٹر تک آگاہی دے دیتا تھا جیسا بجٹ ہے ان حالات کو یہ بہتر ہی ہے بلوچستان کا اہم مسئلہ ایجوکیشن کے حوالے سے ہے بلوچستان میں آن لائن کلاسز نہیں ہو رہی ہیں بلوچستان میں انٹرنیٹ اور میڈیا کی سہولت نہیں ہے ہمارے طلباءو طالبات کا سمیسٹر ضائع ہو رہا ہے ان کے پاس ہو آپشن ہیں یا گھر بیٹھے ہیں تعلیمی سال ضائع ہو رہا ہے اگر بڑے شہروں کی طرف جائیں تو وہاں رہیں اتنا خرچ وہ کر نہیں سکتے بلوچستان کے غریب طلباءاتنی طاقت نہیں رکھتے کہ بڑے شہروں میں جا کر تعلیم جاری رکھ سکیں بلوچستان پہلے ہی تعلیم کے حوالے سے پسماندہ ہے کورونا وائرس کے دور میں وفاقی حکومت فوری طور پر اقدامات کرے خاص کر کے وزارت تعلیم اور ٹیلی کام منسٹری کچھ کرے ورنا طلباءکا سال ضائع ہو جائے گا بلوچستان کیلئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں اسکیمیں تو کافی ہیں جو سالہا سال کیلئے فارورڈ ہو رہی ہیں جب کام شروع نہیں ہوا تو مکمل کیسے ہوں گے گوادر کی ترقی کیلئے مشرف کے دور میں 25ارب رکھے گئے اب 15سال ہو گئے ہیں ابھی تک 11ارب روپے ریلیز ہوئے ہیں اس طرح گوادر مشکل ہی ترقی کر سکے اب بار بھی 800ملین گوادر کی ترقی کیلئے رکھے گئے ہیں اس پر نظرثانی ہونی چاہئے پچھلے سال میں پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں پر کام نہیں ہوا اسی طرح زیارت ٹاﺅن ڈویلپمنٹ کی سکیم پچھلے چار سال ہے مگر عملدرآمد نہیں ہو رہا جب سکیم ہے تو اس پر کام شروع ہونا چاہئے ہوشاب آواران سڑک پچھلے سال بھی شامل تھی اب بھی ہے مگر زمین پر کچھ نظر نہیں آ رہا ہے بلوچستان کیلئے 150منصوبے ہیں مگر ان منصوبوں کا بلوچستان کے لوگوں کو اس وقت فائدہ ہو گا جب تکمیل کو پہنچے ہیں طلباءکیلئے آن لائن کلاسز کا کچھ ہونا ہے بلوچستان میں اکثر علاقوں میں سیکورٹی خدشات کی بناءپر انٹرنیٹ بند ہے محکمہ تعلیم و ٹیلی کام سیکورٹی اداروں سے بات چیت کریں تاکہ طلباءکو سال ضائع ہونے سے بچے سکے ان طلباءنے ہی آگے چل کر بلوچستان و پاکستان کی خدمات کرنی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!