بلوچستان کے لوگوں کو سازش کے تحت بغاوت پر اکسایا جارہاہے، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی

بلوچستان کے لوگوں کو سازش کے تحت بغاوت پر اکسایا جارہاہے، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ( پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءنوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد ہو یا ان ہاﺅس تبدیلی پارٹی صوبے کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے گی ۔ بلوچستان کے لوگوں کو سازش کے تحت بغاوت پر اکسایا جارہاہے پرامن سیاسی عمل کے ذریعے مسلسل جدوجہد کو آگے بڑھائیںگے ۔ پارٹی بلوچستان کے اجتماعی قومی نوعیت کے مسائل کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرکے اپنے ووٹر کے سامنے سرخرہوئی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی شب نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہی اس موقع پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے فیصلے فرد واحد نہیں پارٹی کے ادارے کرتے ہیں ،پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے فیصلہ کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ۔ تحریک انصاف کی حکومت کو پارٹی نے لاپتہ افراد کی بازیابی ،افغان مہاجرین کے انخلاء،گوادر پر حق ملکیت ، وفاقی ملازمتوں میں چھ فیصد کوٹہ پر عملدرآمد پر مبنی مطالبات پیش کئے ، وفاق سے کوئی وزارت ، گورنر شپ یا کسی کو مشیر بنانے کا مطالبہ نہیں کیا ۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کے آئینی اداروں نے حکومت کو ہر ممکن موقع دیا کہ وہ ان نکات پر عملدرآمد کرائے بار بار مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو آگے لیکر بڑھنے کی کوشش کی تاہم حکومت تسلیم کرنے کے باوجود بلوچستان کے اجتماعی قومی نوعیت کے مسائل کے حل پر عملدرآمد نہیں کراپائی بلوچستان نیشنل پارٹی نے بلوچستان کے اجتماعی قومی نوعیت کے مسائل کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرکے اپنے ووٹر کے سامنے سرخرہوئی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بار بار موقع دینے کے باوجود وفاق کی عدم سنجیدگی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بلوچستان کے حقیقی مسائل کو تسلیم کرنے کے باوجود وفاقی حکومت انہیں حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی یا حکومت کے سرپرستی کرنے والے نہیں چاہتے کہ لاپتہ افراد بازیاب ، صوبے کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے، گوادرسے متعلق قانون سازی ہو افغان مہاجرین کو باعزت ان کے ملک واپس بھیجا جائے وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے6 فیصد کوٹہ کو پر کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں اگر چار سو لوگ بازیاب ہوئے تو چھ سو لوگ لاپتہ بھی کئے گئے وفاق صوبے کے عوام کو جوابدہ ہے کہ مطالبات تسلیم کرنے کے باوجودان پر عمل کیوں نہیں ہوا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں صوبہ کا حصہ کم کرنے پر بلوچستان کے جعلی وزیراعلیٰ نے اجلاس سے جعلی واک آﺅٹ کیا کیونکہ موصوف ہدایات پر عمل کرنے کے عادی ہیںانہیں صوبے کی بدبختی اور بدحالی میں اضافہ کرنے کیلئے بلوچستان کے عوام پر مسلط کیا گیا ہے ۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان میںتعمیر و ترقی کیلئے تجویز کئے گئے منصوبوں پر عملدآمد ہونے سے صوبے کی پسماندگی ،بے روزگاری، غربت ،ناخواندگی میں کسی حدتک کمی آسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت بلوچستان کے لوگوں کو بغاوت پر اکسایا جارہاہے مگر ہم پرامن سیاسی عمل کے ذریعے مسلسل جدوجہد کو آگئے بڑھائیںگے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک ہو یا ان ہاﺅس تبدیلی بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریگی پارٹی اس عمل کا حصہ بنے گی جس سے بلوچستان کی پسماندگی کا خاتمہ اور صوبے کے لوگوں کو فائدہ ملے ۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں خود منتشر ہیں صدارتی انتخابات میںاپوزیشن نے اپنے ہی مدمقابل ہی تین امیدوار کھڑے کئے چیئرمین سینٹ کے الیکشن ہوں یا اسپیکر قومی اسمبلی کے اپوزیشن کسی ایک امیدوار پر اتفاق نہیں کر پائی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!