خضدار(نامہ نگار) کوئٹہ میں طلبا ﺅ طالبات کی پر امن احتجاجی مظاہرے پر تشدد اور گرفتاری کے خلاف خضدار میں احتجاجی مظاہرہ، بلوچ اسٹوڈنٹس خضدار کی جانب سے پولیس کی طرف سے کوئٹہ میں پرامن مظاہرہ کرنے والے طلباءو طالبات پر حملہ کرکے انہیں زد و کوب کرنے،طالبات کے ساتھ پولیس کی طرف سے ہتک آمیز رویہ روا رکھنے اور انہیں جیل بھیجنے کے خلاف آج خضدار میں بلوچ طلباءنے ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا ریلی کے شرکا ڈاکخانہ چوک سے ہوتے ہوئے آزادی چوک پہنچے جہاں پر احتجاجی مظاہرہ جلسے کی شکل اختیار کی طلباءنے احتجاج میں پولیس کی غنڈا گردی اور طلباءو طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی سختی سے مذمت کی اور اس آمرانہ رویہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ احتجاجی شرکا سے حفیظ بلوچ عتیق بلوچ،جاوید بلوچ زبرین فہمیدہ بلوچ علی نواز بلوچ خالدہ بلوچ آفتاب بلوچ طارق عزیز فضل بلوچ اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ طلباﺅ طالبات کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی سنیئر نائب صدر میر شفیق الرحمان ساسولی،خالد ایڈوکیٹ معروف قانون دان فوزیہ ایڈوکیٹ حافظ جمیل ابرار اور دیگر سیاسی وسماجی شخصیات نے اظہار یکجہتی کے طور پر ریلی اور جلسے میں شرکت کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جارہانہ رویہ کابل افسوس ہے اور اس طرح کے رویہ طلباءکو زیر کرنے کی سازش ہے لیکن پولیس کی جبر کے خلاف جس طرح طلباءنے مزاحمت دیکھائی وہ قابل دید ہے، انہوں نے پولیس کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے طالب علموں کو سلام پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بلوچستان میں طلباءآن لائن کلاسز لیں لیکن حکومت اس بات پر راضی نہیں ہے کہ بلوچستان میں انٹرنٹ سروس کو بحال کر دیں۔ اب آن لائن کلاسز موبائل نیٹ ورک سے نہیں لیے جا سکتے بلکہ اس کے لیے نٹ کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بلوچستان میں تعلیم ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، بلوچستان کے طلباءکے ساتھ نوآبادیاتی رویہ اپنایا جا رہا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، طالب علموں نے کہا کہ ہمیں آن لائن کلاسز انٹرنیٹ کے بغیر قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباءکو زد و کوب کیا گیا انہیں مارا اور گھیسٹا گیا لیکن طالب علم کسی بھی طرح اپنے جائز حق سے پیچھے نہیں ہٹے جو ہم سب کی کامیابی ہے۔ حق اور سچ کیلئے بلوچستان کے طلباءہمیشہ کھرے رہے ہیں جو ہم سب کی کامیابی ہے انہوں نے کہا کہ جن طلباﺅ طالبات پر تشدد کیا گیا ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ تعلیم کی حصول کو آسان اور ممکن بنانے کا مطالبہ کررہے تھے آج ہم بھی اپنے طالب علم ساتھیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے خلاف اور آن لائن کلاسز کا نظام قبول نہیں کے لئے احتجاج کررہے ہیں کیونکہ صوبے کی اسی فیصد علاقوں میں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں تو ہم اپنے تعلیم کے حصول کو کیسے مکن بنائیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ آن لائن کلاسز کے اجرکو ختم کرکے طلبا کو عام تعلیم کی سہولت ففراہم کی جائے ریلی میں خواتین طالبات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی
