دالبندین ۔محمد بخش بلوچ سے : بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع چاغی کے زیراہتمام آن لائن کلاسز اور طالبات کی گرفتاری کے خلاف دالبندین بازار میں ایک ریلی نکالی گئی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں بی ایس او پجار کے کارکنوں نے بھی شرکت کی اس موقع پر مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں اور صوبائی حکومت کی ناروا سلوک کے خلاف شدید نعرے بازی کی مظاہرین سے بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ثناءاللہ بلوچ ۔کامریڈ آحمد یار سمالانی مصطفیٰ کمال ریکی محمد اقبال ریکی وقار ریکی ۔ ۔ادریس بلوچ ۔بی ایس او پجار کے صدر ساجد ایاز ۔۔راشد ہمراز اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی کی جانب سے آن لائن کلاسز کا اجراء بلوچستان کے طلباء کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے کیونکہ عرصہ دراز سے صوبے کے آٹھ اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت بند ہے متعدد اضلاع میں بجلی کا مسئلہ بھی درپیش رہتا ہے ایسے حالات میں صوبے کے طلباء کیسے آن لائن کلاسز کا حصہ بن سکتے ہیں جو کہ سوچنے کا مقام ہے حالیہ اقدام سے محسوس ہوتا ہے کہ ایچ ای سی بلوچستان کے طلباء سے مخلص نہیں مقررین نے کوئیٹہ میں طلباء و طالبات کی بے جا گرفتاریوں اور طلباء پر تشدد کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار صوبے کی بیٹیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور انھیں زبردستی جیلوں میں بند کر دیا گیا اس عمل سے موجودہ صوبائی حکومت کی تعلیم دشمن پالیسی عیاں ہوتی ہے طلباء و طالبات تعلیمی سہولیات کے فقدان اور حکمرانوں کی نااہلی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی تھی مگر پولیس نے ان کی آواز کو دبانے کے لیے گرفتاری اور تشدد سے کام لیا جو کہ افسوسناک عمل ہیں ۔
