اوتھل: جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مرکزی جنرل سیکرٹری وسابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے لسبیلہ کے ضلعی ہیڈکوارٹراوتھل میں اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی مکھی شام لعل لاسی کی رہائش گاہ پرصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے ،حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کےلئے ہوم ورک شروع کردیا ہے حکومت کے خلاف عدم اعتمادکی تحریک لانا اپوزیشن کا آئینی حق ہے ملکی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس کےلئے مشاورت جاری ہے حکومت کے پاس اکثریت نہیں رہی اخترمینگل حکومت سے الگ ہوگئے ق لیگ والے بھی ناراض ہیں انہوں نے کہاکہ وفاقی بجٹ کو عوام نے یکسر مسترد کردیا ہے عمران خان اور اسکا ٹولہ اس عوام دشمن بجٹ کو تاریخی بجٹ قرار دے رہاہے حکومت معاشی ،اقتصادی اور خارجہ امور میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے زیرواکانومی گروتھ سے ملکی معیشت کا جنازہ نکل گیاہے اس جرم میں اپوزیشن بالکل شریک نہیںریاست مدینہ کی دعوے دار حکومت جس نے ریاست مدینہ میں ایک کروڑ نوکریاں،پچاس لاکھ گھربنانے کا اعلان کیا تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ریاست مدینہ میں لوگ نان شبینہ سے محروم ہوکررہ گئے ہیںاسلام آباد میں مندر کی تعمیرکامسئلہ صرف ہمارا نہیں بلکہ تمام مسلمانوںکا ہے کہ وہ کیاردعمل دیتے ہیں ہم اقلیتوں کے حقوق کے قائل ہیں اور خود کو اسکا ذمہ دار بھی سمجھتے ہیں وفاقی حکومت اس معاملے میں فساد پیداکررہی ہے اس سے ہندوستان میں یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان میں مسلمان مندر تعمیرکے خلاف ہیں حکومت کا یہ فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے یہ ہندومسلم بھائی چارگی کے خلاف ایک سازش ہے ہمارا جھگڑا قادیانیوں کے ساتھ ہے وہ خود کومسلمان کہتے ہیں اور اپنے آپ کو اقلیت تصور نہیں کرتے قادیانیوں کے ساتھ ہمارا آئینی جھگڑا ہے قادیانی خود کو آئین کے تحت غیرمسلم تسلیم کریںہمارا جھگڑا ختم ہوجائے گا ، انہوںنے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت کو ہم جعلی حکومت سمجھتے ہیں اسکے خلاف ہم نے ملین مارچ کئے لاک ڈاﺅن کیے میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ اس جعلی حکومت سے عوام کو نجات دلانے میں اپنا کرداراداکرے کیونکہ اب یہ حکومت صرف ہوا میں کھڑی ہے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ سی پیک سے بلوچستان کو فائدہ ہونا تھا لیکن اس نالائق حکومت میںسی پیک کا کام ہی رک گیاہے اور سی پیک کے اثرات عوام تک آنے سے پہلے ہی ختم ہوگئے ہیں انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت کے ناقص انتظامات اور ناقص پالیسیوں کے تحت کورونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہاہے حکومت غلط اعدادوشمار پیش کرکے زیادہ امداد لینے کے چکرمیں ہے انہوںنے بلوچستان کی صوبائی حکومت پر تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان میرے دوست ہیں لیکن وہ غلطی پر غلطی کررہے ہیں اپوزیشن جماعتوں کے فنڈز روک دیئے گئے ہیں جام کمال کا حکومتی اور اپوزیشن اراکین کو یکسان فنڈز فراہم کرنے کا دعویٰ غلط اور جھوٹاہے جب بلوچستان میں ہماری مخلوط حکومت تھی تب ملازمتوں کے کوٹے اور فنڈز میں یکسانیت تھی لیکن اب ایسانہیں اب تو اپوزیشن کے فنڈزروک کر بے بنیاددعوے کرکے عوام کو گمراہ کیا جارہاہے جام کمال غیرجمہوری ذہنیت کامالک ہے اس موقع پر اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی مکھی شام لعل لاسی،جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی نائب امیرمولانا غلام قادر قاسمی،حافظ خلیل احمد سارنگزئی،جے یوآئی لسبیلہ کے ضلعی امیرمولانا عبدالحمید عارف،ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا یعقو ب سالولی،حافظ شبیر احمد،نوراحمد کاکڑ،حماداللہ،معاوذ احمد،محمد اشرف،مولانامحمد سعید،حافظ حسین احمد مدنی،ارجن داس لاسی،پریم چندلاسی اور دیگر موجود تھے۔






