میرا اتنا تجربہ ہوگیا کہ حکومت جو کام نہیں کرنا چاہتی اس کو ادھر ادھر کیسے کیاجاتا ہے ، جسٹس عامر فاروق

میرا اتنا تجربہ ہوگیا کہ حکومت جو کام نہیں کرنا چاہتی اس کو ادھر ادھر کیسے کیاجاتا ہے ، جسٹس عامر فاروق

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد ; اسلام آباد ہائیکورٹ زلفی بخاری کی بطور چئیرمین پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن بورڈ تعیناتی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کیا حکومت ساڑھے اکیس کروڑ لوگوں میں سے ایک بھی مستقل چئیرمین نہیں بنا سکتی میرا بھی اتنا تجربہ ہو گیا ہے، حکومت نے جو کام نہیں کرنا ہوتا اس کو اِدھر ا±دھر کیسے کیا جاتا ہے قائمقام سربراہ ایک محدود حد تک ہی کام کر سکتا ہے، مستقل نوعیت کے امور سرانجام نہیں دے سکتاالجہاد ٹرسٹ کا فیصلہ پڑھیں ، قائمقام چیف جسٹس بھی صرف روز مرہ کے امور ہی چلا سکتا ہے پی ٹی ڈی سی ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کئے جانے پر زلفی بخاری کے خلاف نئی درخواست بھی دائر کر دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ زلفی بخاری قائمقام چئیرمین ہوتے ہوئے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے جیسے پالیسی فیصلے کر رہے ہیں دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا چئیرمین پی ٹی ڈی سی کی تعیناتی کا طریقہ کیا ہے ، کون منتخبب کرتا ہے جسس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پی ٹی ڈی سی کی 97 فیصد شئیر ہولڈر ہے، حکومت ہی کسی کو تعینات کرتی ہے جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ قائمقام سربراہ تو کسی کے فوت ہونے یا چھٹی پر جانے کی صورت میں عارض ہوتا ہے قائمقام سربراہ ہمیشہ کے لئے کیسے لگایا جا سکتا ہے عدالت کا زلفی بخاری کیخلاف دائر تمام درخواستیں یکجا کر کے 22 جولائی کو سننے کا فیصلہ کیا ہے کیس کی سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی گئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!