میر ضیاءاللہ لانگو کی تحریک بحالی بی ایم سی کے احتجاجی مظاہرین کو مسئلے کے حل کی یقین دہانی

میر ضیاءاللہ لانگو کی تحریک بحالی بی ایم سی کے احتجاجی مظاہرین کو مسئلے کے حل کی یقین دہانی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ ( سٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر ضیاءاللہ لانگو نے تحریک بحالی بی ایم سی کے احتجاجی مظاہرین کو مسئلے کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبائی حکومت کو وقت دیں ، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرلیا جائے گا ۔ یہ بات انہوںنے گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناءبلوچ کے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کیا ۔ قبل ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ثناءبلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے بولان میڈیکل کالج کے ملازمین اور طلبہ کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یہ ملازمین گزشتہ دو سال سے سراپا احتجاج ہیں حکومت کی جانب سے قائم مذاکراتی کمیٹی نے انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن اب تک مسائل جوں کے توں ہیں انہوںنے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب جامعات کے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے ہیں دیگر تین صوبوں نے اس حوالے سے قانون سازی بھی کی ہے لیکن دس سال گزرنے کے باوجود بلوچستان میں اس حوالے سے قانون سازی نہیں ہوئی انہوںنے کہا کہ ملازمین اور طلباءکوکرائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد نہ ہونے سے اسمبلی کی توہین ہورہی ہے انہوں نے استدعا کی کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی طلباءاورملازمین کو کرائی گئی یقین دہانیوں پر فوری عملدرآمد کرائیں ۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہاکہ طلباءاور ملازمین کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،سراپااحتجاج طلباءسے حکومتی کمیٹی جس میں اپوزیشن اراکین بھی شامل تھے نے طلباءسے مذاکرات کئے اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ان کی ملاقات کرائی جس میں طلباءکے مسائل اورتجاویز کو غورسے سنا گیااور اس پر عملدرآمد بھی کیاجائےگا،انہوں نے کہاکہ احتجاجی ملازمین سے درخواست ہے کہ وہ حکومت کو وقت دیں کیونکہ اعلیٰ تعلیمی ادارے گورنربلوچستان کے انڈر ہیں ہم گورنر اوروزیراعلیٰ سے مل بیٹھ کر اس پر بات کریںگے تاکہ مسئلے کا حل نکالاجائے اس ضمن میں ہم نے احتجاجی ملازمین کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنااحتجاج موخر کرتے ہوئے مذاکرات کیلئے اپنے نمائندوں کاانتخاب کریں جو حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ اور گورنر سے ملاقات کرکے مسئلے کے فوری حل کو یقینی بنائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!