کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی ایوان کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے سیندک کے حوالے سے نہ معاہدہ کیاہے نہ ہی کوئی ارادہ ہے، سیندک کی لیز کی مدت2025 میں ختم ہوگی، آٹھارویں ترمیم کے تحت اب تیل و گیس کی آمدنی پچاس،پچاس فیصدہوگی۔جبکہ اپوزیشن اراکین نے سیندک منصوبے کے حوالے سے قائم اسمبلی کی کمیٹی کو فعال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیندک لیز کی توسیع ہویا کوئی بھی معاہدہ اسے ایوان کے سامنے لایا جائے۔ بلوچستان کے وسائل اور معدنیات کو بروئے کا ر لانے کے لئے فیصلے اس ایوان میں ہونے چائیں،صوبے میں کورونا وائرس کے بچا? کے لئے اب تک وفاقی ، صوبے اور ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے دی جانے والی رقم کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ جمعے کے روز ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل کی زیرصدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں دو روز سے جاری ایوان میں بحث سمیٹتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ سیندک کی لیز میں توسیع سے متعلق بلوچستان حکومت نے کوئی معاہدہ نہیں کیا نہ ہی مستقبل میں حکومت ایسا کوئی معاہدہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ سیندک کی پسماندگی آج کی بات نہیں 1974ئ سے یہی حالت ہے۔ انہوںنے کہا کہ سیندک منصوبے سے متعلق اگر دو کمپنیوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوا ہے تو اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے انہوںنے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب صوبے میں تیل و گیس کی آمدنی سے صوبے اور وفاق کو پچاس پچاس فیصدشیئرز ملنے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے2019ئ اور2020ئ میں چار ہزار سے زائد کارروائیاں کی ہیں متعدد کیسز ڈرگ کورٹ کو بھیجے گئے ہیں جن میں کچھ کے فیصلے بھی ہوچکے باقی زیر سماعت ہیں۔قبل ازیں جمعیت علمائ اسلام کے میر یونس عزیز زہری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وبائ کے دوران طبی عملے کو17کروڑ روپے کے جعلی اور زائد المعیاد آلات فراہم کئے گئے ہمارے پاس اس حوالے سے ثبوت اور شواہد موجود ہیں انہوںنے سیندک پراجیکٹ سے متعلق اسمبلی کی قائم کمیٹی پر عدم فعالیت پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ15اکتوبر2018ئ کے اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی ہوئی تھی کمیٹی کے اراکین میں اپوزیشن کے تین اور حکومتی بینچوں سے پانچ اراکین کو شامل کیا گیا تاہم ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک اس کمیٹی کے چیئر مین تک کا انتخاب عمل میں نہیں لایاگیاہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیٹی کا صرف ایک اجلاس منعقد ہواجس میں حکومت کی جانب سے صرف میر عارف محمد حسنی شریک ہوئے اس اجلاس میں چیئر مین کے انتخاب کے معاملات طے نہیں ہوسکے اس کے بعد سے اب تک کمیٹی کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ انہوں نے سیندک منصوبے کی لیز میں پندرہ سال کی توسیع پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کن شرائط کی بنیاد پر اس لیز میں توسیع کی گئی ہے اس کا حکومت کو اور نہ ہی اپوزیشن کو علم ہے محکمہ معدنیات کا قلمدان وزیراعلیٰ کے پاس ہے انہوں نے ایک ہاتھ سے سمری خود موو کی اور دوسرے ہاتھ سے خود اس کی منظوری دی۔ انہوںنے کہا کہ لیز میں توسیع سے متعلق محکمہ خزانہ اور لائ ڈیپارٹمنٹ نے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جس پر ہم انہیں سراہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ سیندک منصوبے کی لیز میں توسیع کا معاملہ اسمبلی میں لایا جائے اور ایوان کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے انہوںنے سیندک سے متعلق قائم پارلیمانی کمیٹی کی فعالیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جلد سے جلد چیئر مین کا انتخاب کرکے کمیٹی کو فعال کیا جائے تاکہ توسیع کے معاملے کو دیکھا جاسکے۔
