پشاور: خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2019 کے نفاذ کے 10 ماہ سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی صوبائی حکومت نے منشیات کے کیسز سے نمٹنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم نہیں کیں۔ خصوصی عدالتوں کا وجود نہیں ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے اتفاق رائے سے سیشنز اور ایڈیشنل سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹس کو رواں سال فروری میں منشیات کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے اختیار دیا تھا تاکہ عدالتوں میں اضافی کام کا بوجھ کم ہوسکے۔ سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں صوبائی حکومت کو خصوصی عدالتوں کے قیام میں تاخیر کے بارے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینٹ ایکٹ (کے پی سی این ایس اے) 2019 کے تحت سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کی موجودہ عدالتوں کو خصوصی عدالتوں کے نامزد کرنے کے لیے مشروط طور پر اتفاق کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب تک عدالتوں کے قیام کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے اور کیسز بحران جیسی صورتحال کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ حکومت اور ہائی کورٹ اس معاملے میں ایک پیج پر ہی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ہائی کورٹ خصوصی منشیات عدالتوں کے ابتدائی قیام میں دلچسپی رکھتی ہے وہیں حکومت اس معاملے کو کھینچ رہی ہے۔ معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ‘نامزد عدالتوں کا مقصد دو مختلف انفورسمنٹ ایجنسیوں بشمول ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایکسائز اور ٹیکسیشن اینڈ پولیس ڈپارٹمنٹ کا پیدا کردہ کام کا بوجھ میں ہر وقت شراکت کرنے والی نہیں ہیں جیسا انہیں قانون کے تحت کیسز کے اندراج اور تحقیقات کے لیے متعارف اور مجازی بنایا گیا ہے’۔ ذرائع نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے حکومت کو بتایا تھا کہ وہ کے پی سی این ایس اے کے مقصد کے لیے نامزد عدالتوں کی اسکیم کے ساتھ چلنا چاہتی ہے تاکہ خصوصی عدالتوں کے قیام کی صورت میں انفراسٹرکچر کی اضافی لاگت اور ججز کے معاون عملے کو بچایا جاسکے، اس کے لیے اضافی سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹس کی اضافی پوسٹیں بنانا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے خصوصی عدالتوں کی حیثیت سے موجودہ عدالتوں کے نامزد کرنے سے ان میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں جس سے وہ موجودہ طاقت کے ساتھ کام کا بوجھ سنبھال سکیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 21-2020 میں خصوصی عدالتوں کے قیام اور ججز کے عہدے تشکیل دینے کے لیے صوبائی حکومت سے بات چیت کے باوجود ابھی تک کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے ابتدائی طور پر کے پی کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ (کے پی سی این ایس اے)، جو ستمبر 2019 میں نافذ کیا گیا تھا، کے تحت حکومت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے ساتھ قانون کی دفعہ 22 کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کرے گی۔






