ہندو تاجر نانک چند کا دن دہاڑے  قتل جھالاوان کے امن پر حملہ ہے ، میر خورشید جمالدینی

ہندو تاجر نانک چند کا دن دہاڑے قتل جھالاوان کے امن پر حملہ ہے ، میر خورشید جمالدینی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

نوشکی: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی نے اپنے جاری کردہ بیان گزشتہ دن وڈھ میں ہندو تاجر نانک چند پر دن دہاڑے فائرنگ اور قتل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو تاجر کی قتل اسلامی قبائلی رسم و رواج کے خلاف ہے انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ پھر جھالاوان کے امن و امان کو سبوتاز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ ہندو کمیونٹی صدیوں سے بلوچ سماج کا حصہ رہا ہے ہندو کمیونٹی بلوچ سماج کا جز لازم ہے ہندو کمیونٹی نے ہر سنگین حالات کا مقابلہ کرکے بلوچ قوم کے شانہ بشانہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وڑھ میں ہندو تاجر کا قتل ایک سنگین المیہ سے ہرگز کم نہیں ۔حکومت اور انتظامیہ ہندو کمیونٹی کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے دن دہاڑے قتل اور قاتلوں کا فرار ہونا انتظامیہ اور حکومتی اداروں کے امن وامان برقرار رکھنے کے دعووں کی مکمل نفی کرتا ہے بلوچستان کو چوروں اور ڈاکوؤں کے مکمل رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ۔جرائم پیشہ عناصر کی مکمل سرپرستی کی جارہی ہے جس سے بلوچستان بھر میں امن و امان کا مسئلہ دن بدن سنگین اور گھمبیر ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بی این پی نے ہمیشہ ہندو کمیونٹی کے حقوق کے لئے آواز بلند کی ہے اور اب بھی بی این پی ہندو کمیونٹی کو مکمل سپورٹ کرنے کی یقین دہانی کرتی ہے واقعہ کے خلاف وڑھ اور خضدار کے عوام نے بھرپور انداز میں احتجاج کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔واقعہ کے خلاف بی این پی پورے بلوچستان میں احتجاج کریگی ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ اور صوبائی حکومت فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری یقینی بناکر مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کریں بصورت دیگر بلوچستان بھر میں سخت و شدید احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جسکی مکمل ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔بی این پی ہندو کمیونٹی کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی۔ہماری مکمل تعاون اور سپورٹ ان کے ساتھ ہیں ۔بلوچستان کے روایات اور بھائی چارگی کو خراب کرنے کی کسی بھی مسلح جھتے کو اجازت نہیں دیگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!