کوئٹہ :جمعیت علماءاسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار چشتی نے کہا کہ بل جلانے والے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد پی ٹی وی فیس میں کئی گنا اضافہ کیے جانے سے عوام کوتبدیلی کاچہرہ دکھایا کنٹینر پرجب کہتے تھے کہ پی ٹی وی فیس کی مد میں سالانہ اربوں روپے اکٹھے کیے جاتے ہیں کہ یہ ہمارا پیسہ جس کے بارے کسی کو معلوم نہیں کہ اسے کس مقصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہےوی فیس کی رقم کی مد میں ہر سال اربوں روپیہ حکمرانوں کی جیبوں میں جاتا ہے اب پاکستان ٹیلی ویژن کی ماہانہ لائسنس فیس 35 بڑھا کر100روپے کردی گئی اب کہتے ہیں کہ اس فیس سے پیسوں والوں کو فرق نہیں پڑتا اب ارباب اقتدار قوم کوبتائے کہ عوام سے23 ارب روپے اکٹھے بتایا جائے کہ یہ رقم کس مقصد کیلئے استعمال ہوتی ہے حکومت بتائے عوام سے اکٹھا کئے جانے والا اربوں روپیہ کہاں جاتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو فیس میں اضافے کی بجائے پی ٹی وی کے اخراجات میں کمی کرنی چاہئے اور کرپشن پر قابو پانا چاہئے انہوں نے کہا کہ مساجد اور مدارس اوروہ گھریں جس میں ٹی وی نہیں اس سے کس بنیاد پر فیس وصول کی جاتی ہے حکومت ایک طرف سے تو لوگوں کو ریلیف دینے کی دعوے کررہا ہے دوسری جانب کسی نہ کسی مد میں ٹیکس بڑھا کرعوام کی خون کونچوڑا جارہا ہے ملک میں غربت اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھیں ہیں دیہاڑی دار سفید پوش چھوٹے دوکاندار بری طرح متاثر ہورہے ہیں مزدورکار محنت کشوں کے چولہے بجھ کر رہ گئے ہیں غریب عوام بچوں کی بھوک اور فاقہ کشی کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہورہی ہے ایسے حالات میں ڈھائی کروڑ بجلی صارفین پر23 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جارہا ہے۔






