بیوی کے قتل کے بعد فرار ہونے والا پاکستانی 11 برس بعد ہسپانوی جزیرے سے گرفتار

بیوی کے قتل کے بعد فرار ہونے والا پاکستانی 11 برس بعد ہسپانوی جزیرے سے گرفتار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

گیارہ برس قبل پاکستان میں اپنی شریک حیات کو مبینہ طور پر قتل کر کے فرار ہونے والے شخص کو سپین کے سیاحتی جزیرے مایورکا سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے اس کی گرفتاری کے لیے انٹرنیشنل وارنٹ جاری کر رکھا تھا۔ سیاحوں میں مقبول ہسپانوی جزیرے مایورکا کی پولیس نے گزشتہ ہفتے 41 سالہ پاکستانی شہری کو گرفتار کیا۔ اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے سن 2009 میں اپنی بیوی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ پاکستانی پولیس کے تفتیش کار قتل کی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اس نے اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کا قتل کیا تھا۔ حکام کو شبہ تھا کہ یہ ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہوگئے تھے۔ ان کی گرفتاری کے لیے پاکستان نے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھا تھا۔ مبینہ قاتل کی گرفتاری کے لیے جاری کردہ یہ بین الاقوامی وارنٹ دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح سپین کے ایک چھوٹے سے سیاحتی جزیرے مایورکا کی پولیس تک بھی پہنچ تھا۔مایورکا کی مقامی نیوز ویب سائٹ ‘مایورکا سائٹنگ‘ کے مطابق گزشتہ بدھ کے روز جزیرے کے مرکزی شہر پالما کی پولیس کو خبر ملی کہ ایک نواحی علاقے میں رہائش پذیر پاکستانی شخص کا ڈیٹا بین الاقوامی وارنٹ میں درج کوائف سے ملتا ہے۔شبہ ہونے پر پولیس نے پالما شہر کے مشرق میں واقع پاکستانی شہری کی رہائش گاہ پر چھاپا مار کر اسے گرفتار کر لیا۔ اس شخص کے کوائف کا جائزہ لے کر پولیس نے اس کی شناخت کر لی۔ہسپانوی پولیس اب اس شخص کو پاکستان بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پاکستان حوالگی کے لیے تیار کردہ نیشنل پولیس کی دستاویز کے مطابق بیوی کے مبینہ قتل میں ملوث اس شخص کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔نیشنل کورٹ پولیس کی جانب سے اس شخص کو سپین سے ملک بدر کر کے پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کی درخواست پر فیصلہ کرے گی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا خاتون کے قتل کے الزام میں مطلوب دیگر ملزمان گرفتار بھی ہو چکے ہیں یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!