کوئٹہ :وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت ہفتہ کے روز ایک اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں مون سون کی جاری بارشوں اور صوبے کے مختلف اضلاع میں پیدا ہونے والے سیلابی صورتحال کے علاوہ امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا، صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ، چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمر مسعود،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حافظ عبدالباسط، متعلقہ اداروں اور محکموں کے سیکرٹریوں ودیگر حکام کے علاوہ این ایچ اے اور کیسکو حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمران زرکون نے اجلاس کو بارشوں کی تازہ صورتحال، سیلابی پانی سے ہونے والے نقصانات اور جاری امدادی کاروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے 21اضلاع مون سو ن کی بارشوں کے زیر اثر ہیں جبکہ ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، کوہلو اور سبی اضلاع بارش اور سیلابی پانی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ڈیرہ بگٹی میں بند ٹوٹنے سے دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے لاجسٹک اسٹریٹیجی پلان بنایا گیا ہے، 12حساس اضلاع میں امدادی اشیا کی اسٹوریج کی استعداد قائم کرتے ہوئے تین تین سو خاندانوں کے لئے خوراک اور دیگر ضروری اشیا ذخیرہ کردی گئی ہیں جنہیں ضرورت کے مطابق متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کا کنٹرول روم اور کال سینٹر 24گھنٹے فعال ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط روابط قائم کئے گئے ہیں، کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لئے بھاری مشینری کی دستیابی سمیت تمام تیاری مکمل کی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ مولاچھوٹک خضدار میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، اس موقع پر جی ایم این ایچ اے بلوچستان نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ این ایچ اے کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کی نگرانی کررہی ہیں، ونگو ضلع خضدار میں لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہونے والی شاہراہ کو آج رات تک بحال کردیا جائے گا، اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحا ل کی بہتری کے لئے تمام متعلقہ ادارے اور ضلعی انتظامیہ متحرک اور فعال رہیں، پانی کی گذرگاہوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، محکمہ مواصلات اور محکمہ زراعت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے بھاری مشینری تیار رکھیں، وزیراعلی نے محکمہ آب پاشی کو ڈیموں کی مسلسل نگرانی کرنے اور متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو واٹر چینلز کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے بلوچستان کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر کو امداد وبحالی کی مجموعی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلی نے ہدایت کی تمام متعلقہ ادارے اور محکمے کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے اپنی تیاریاں مکمل رکھیں، انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے فصلوں کو فائدہ بھی پہنچے گا، وزیراعلی نے محکمہ جنگلات کو شجر کاری میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ہفتہ کے روز اچانک شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال اور صفائی کے نظام کا جائزہ لیا، وزیراعلی بلوچستان جوائنٹ روڈ، سریاب روڈ، سیٹلائٹ ٹان لنک روڈ، سرکی روڈ، ڈبل روڈ، سمنگلی روڈ اور ایئرپورٹ روڈ گئے، ایڈمنسٹریٹر کیو ایم سی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایم ڈی واسا بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو صفائی کی صورتحال اور نکاسیءآب کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت جاری کی، وزیراعلی نے ایئرپورٹ روڈ پر کوئٹہ پیکج کے تحت زیرتعمیر کثیرالمقاصد سپورٹس کمپلیکس کا معائنہ بھی کیا اور تعمیراتی کاموں کے معیار کا جائزہ لیا، انہوں نے منصوبے کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں اس قسم کے مزید اسپورٹس کمپلیکس زیرتعمیر ہیں جن کی تکمیل سے متعلقہ علاقوں کے عوام کو کھیلوں اور صحتمندانہ تفریح کے مواقع مل سکیں گے، رکن قومی اسمبلی میر عامر مگسی بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔
