جنگ یا امن کا انتخاب قیادت کے کہنے پر کریں گے‘رہائی پانے والے طالبان

جنگ یا امن کا انتخاب قیادت کے کہنے پر کریں گے‘رہائی پانے والے طالبان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کابل:طالبان سے جنگ بندی کے تیسرے اور آخری روز اس میں توسیع کے مطالبے کے ساتھ افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا۔کشیدگی میں یہ وقفہ تقریبا 19 سال کی جنگ میں دوسری مرتبہ سامنے آیا ہے جو پورے افغانستان میں عمل میں آیا اور اس کی وجہ سے کشیدگی کی زد میں آنے والوں کو کچھ مہلت ملی ہے۔افغان حکومت کی طرف سے یہ اقدام طالبان کی تین روزہ جنگ بندی کی پیش کش کے جواب میں 2 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کا حصہ ہے۔افغان حکومت کی جانب سے رہا کیے جانے والے طالبان قیدیوں کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد وہ امن سے رہیں گے یا دوبارہ بندوق اٹھائیں گے، یہ ان ا±ن کی قیادت کے فیصلے پر منحصر ہے اور وہ اب بھی ا±ن کے کہنے پر لبیک کہیں گے۔افغان حکومت نے بگرام اور پل چرخی سمیت ملک کی دیگر جیلوں سے طالبان کے 900 قیدی رہا کیے، جن میں سے 600 کے قریب صرف بگرام جیل سے رہا ہوئے۔اس سال 28 فروری کو دوحہ میں ہونے والے امریکہ-طالبان امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ ایک دن میں اتنی زیادہ تعداد میں طالبان قیدی رہا ہو گئے ہیں۔رہائی پانے والے طالبان کا کہنا ہے کہ ہم کسی غیر ملکی کو اپنی زمین پر رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے، انہیں فوری طور پر یہاں سے جانا ہوگا۔ رہائی پانے والے ہر قیدی کو تقریباً 65 ڈالر کی رقم افغان کرنسی میں دی گئی۔افغانستان کے قومی سلامری کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ رہائی پانے والے قیدیوں کی اصل تعداد قانونی کارروائی کیے جانے کے بعد جاری کی جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!