ایف آئی اے نے جج ویڈیو اسکینڈل کے 2 ملزمان کو ‘انتہائی مطلوب دہشتگرد’ قرار دے دیا

ایف آئی اے نے جج ویڈیو اسکینڈل کے 2 ملزمان کو ‘انتہائی مطلوب دہشتگرد’ قرار دے دیا

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے جج ارشد ملک ویڈٰو اسکینڈل کیس میں ملوث 2 افراد کو ‘انتہائی مطلوب دہشت گرد’ قرار دے دیا۔ایف آئی اے کی جانب سے مرتب کردہ ہائی پروفائل دہشت گردوں کی فہرست، جس کی نقل ڈان کے پاس دستیاب ہے، اس میں جج ویڈیو اسکینڈل میں نامزد 2 ملزمان راولپنڈی کے رہائشی ناصر محمود اور لاہور کے رہائشی میاں سلیم رضا کا نام شامل کیا گیا ہے۔بلیک میلنگ اور مجرمانہ فعل کے الزام کا سامنا کرنے والے دونوں ملزمان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے بتایا گیا۔خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران سامنے لائی گئی ایک ویڈیو میں یہ دیکھا گیا تھا کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ انہوں نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو قید کی سزا دباؤ میں آکر دی تھی۔اس فہرست میں لشکر طیبہ کے کئی دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں جو الحسین اور الفوز کشتیوں کے عملے کے لوگوں اور دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔علاوہ ازیں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس کی جانب سے نامزد ایک اور شخص ملتان سے محمد عمران ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا البدر اور حرکت المجاہدین سے تعلق ہے۔پولیس کے مطابق اس شخص نے میریٹ اسلام آباد ہوٹل کا دہشت گرد حملے کے لیے ہدف کے طور پر انتخاب کیا تھا جبکہ وہ افغانستان میں 9/11 کے بعد ہونے والی جنگ میں بھی حصہ لے چکا تھا۔مذکورہ فہرست میں مولانا اعظم طارق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (آئی ایس او) کے کارکنان (ٹوبہ ٹیک سنگھ) سے امجد شاہ، (سرگودھا) سے رضوان علی، (جہلم) سے قلب عباس شاہ، (سرگودھا) سے سید کاشف علی رضا اور (واہ کینٹ) سے اسد عباس کے نام بھی شامل ہیں، ان ملزمان میں سے 3 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران میں جبکہ ایک برطانیہ میں ہے۔اس کے علاوہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی سفارشات پر سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) کے کارکن قاری احسان الحق کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن پر سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف پر خود کش حملے اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام ہے جبکہ ان کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔مذکورہ فہرست میں تحریک طالبان پاکستان کے بیت اللہ محسود گروپ سے تعلق رکھنے والے واہ کینٹ سے محمد اعجاز کا نام بھی شامل ہے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف پر خود کش حملے کے لیے 4 گاڑیاں تیار کیں۔دریں اثنا اس فہرست میں متعدد ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جن پر سیاست دانوں، فوجی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور قتل سمیت دیگر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!