وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس ‘ محکمہ صحت کیلئے تین سالہ پروگرام کی منظوری

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس ‘ محکمہ صحت کیلئے تین سالہ پروگرام کی منظوری

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت کے مجوزہ تین سالہ پروگرام کا جائیزہ لیا گیا اور پروگرام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے پی سی 1 کی تیاری کی ہدایت کی گئی پارلیمانی سیکریٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی سیکریٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی سیکریٹری صحت دوستین جمالدینی نے پروگرام کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ کووڈ۔19 کے تناظر میں شعبہ صحت کی ترقی،تیاری اور رسپانس پروگرام جون 2020 تا جون 2023 تک ہو گا آٹھ جزو پر مشتمل تین سالہ پروگرام پر لاگت کا تخمینہ 13.33 ارب روپے ہے پروگرام پر عملدرآمد وفاقی حکومت او ر ڈونرز اداروں کی شراکت داری سے کیا جائےگا انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جس نے کورونا وائرس کے بعد وبائی امراض سے موثر طور پر نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی ہے انہوں نے پروگرام کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پروگرام میں انسٹٹیوٹ آف ویکسین ڈویلپمنٹ کا قیام بھی شامل ہے جبکہ پروگرام میں وبائی امراض کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات سے پیدا ہونے صحت کے چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کے علاوہ میڈیکل لیبارٹریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا وبائی امراض سے بچا¶ کی ویکسین کی تیاری شعبہ طب میں انسانی وسائل کی ترقی کوئیٹہ اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کی اپ گریڈیشن سمیت دیگر اہم اقدامات شامل ہیں اجلاس میں وبائی امراض کے علاج و معالجہ اور تحقیق و ریسرچ کے لیے ایک نئے اسپتال کے قیام کا جائیزہ بھی لیا گیا سیکریٹری صحت نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پلازمہ سے وائرس سے متاثرہ لوگوں کے علاج اور اینٹی باڈی ٹیسٹ کا آغاز بھی کیا گیا ہے وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس نے گلوبلائیزیشن کے تصوراور عمل کو بھی نقصان پہنچایا اور اقوام کو ایک دوسرے سے دور کیا ہے انہوں نے کہا کہ وبائی امراض سے نمٹے اور علاج کی دریافت کے حوالے سے ہر قوم اب تحقیق و ریسرچ کی جانب متوجہ ہوئی ہے اور ہمیں بھی دوسری قوموں پر انحصار کم کر کے طبی ریسرچ و تحقیق کی جانب جانا ہو گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ نجی شعبہ کے بڑے طبی اداروں کی حوصلہ افزائی کر کے انکے تجربات سے استفادہ کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے صحت کے شعبہ میں مزید سرمایہ کاری اور تحقیق کی ضرورت اجاگر ہوئی ہے کیونکہ کورونا وائرس نے دنیا کے صحت کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سماجی و معاشی ضروریات رہن سہن اور خوراک کے استعمال کے حوالے سے نئے تصورات کو جنم دیا ہے جبکہ عام آدمی صحت اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے حساس ہو گیا ہے وزیراعلیٰ نے مجوزہ صحت پروگرام کو آئیندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!