کورونا وائرس خطرناک ‘ حکومتی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ‘ پشونخوامیپ

کورونا وائرس خطرناک ‘ حکومتی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ‘ پشونخوامیپ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ :پشتونخو املی عوامی پارٹی کے مرکزی سےکرٹرےٹ کے جاری کردہ بےان مےں ملک بھر بالخصوص ہمارے پشتون بلوچ صوبے مےں کرونا وباءکی دن بدن بڑھتی ہوئی صورتحال پر سخت تشوےش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گےا ہے کہ صرف مئی کے مہےنے مےں سرکاری اعدادوشمارکے مطابق ملک مےں52ہزار سے زائد مرےضوں کا اضافہ ہوا ہے اور مئی ہی کے مہےنے مےں1158اموات کا اضافہ اور آج ےکم جو ن کو 2964مرےضوں کا اےک دن مےں اضافہ ہوا ہے اور ےہ صرف سرکاری اعداد وشمار ہےں حالانکہ مرکزی اور صوبائی سطح دونوں مےں مرےضوں اور اموات کی تعداد صحےح پےش نہےں کی جاتی جبکہ حقےقت مےں ہمارے اس مشترکہ صوبے مےں مرےضوں کی تعداد اےک لاکھ پچاس ہزار سے زائدہوچکی ہےں مختلف اضلاع اور ان کے مختلف دےہاتوں مےں کھانسی اور بخار کی بےماری ہر علاقے مےں پائی جاتی ہے اور اکثر اموات کرونا کی بےماری کے باعث ہورہے ہےں جن کی کوئی رےکارڈ نہےں اور ان کی تعداد اب سےنکڑوں سے زائد ہوچکی ہےں اور صوبے کے تمام غرےب عوام کو درپےش ےہ گھمبےر صورتحال وفاقی اور صوبائی حکومتوںاور NDMAکے عوام دشمن پالےسےوں اور عوام دشمن اقدامات کے باعث پےداہوئے ہےں جنہوں نے اربوں روپے خرچ کرنے کے دعووں کے باوجود ماسوائے کوئٹہ مےں اےک لےبارٹری کے صوبے بھر کے کسی بھی ضلع مےں ٹےسٹ کا نظام شروع نہےں کےاگےا اور نہ ہی لےبارٹری قائم کی گئی ۔ جبکہ صوبائی حکومت کی رپورٹ مےں کرونا کی مد مےں خرچ ہونےوالی رقم 5ارب سے زائد ہے۔ جو نام نہاد صوبائی حکومت اور ان کے اداروں کی نااہلی ، کاہلی اور کرپشن کو ثابت کرتی ہے اور صوبائی وزےر اعلیٰ جس کے پاس محکمہ صحت بھی ہے وزےر اعلیٰ اور ان کے اتحادےوں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ وزےر اعلیٰ اور اس کے اتحاد ی کرپشن کی بنےاد پر اےک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہےں اسی طرح صوبائی سےکرٹری صحت کی کارکردگی بھی نہ سوالےہ نشان ہے۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ وفاقی حکومت اور NDMAکی جانب سے ہمارے صوبے کو ضروری سامان اور وےنٹی لےٹرز کی عدم فراہمی سوالےہ نشان ہے ؟کےونکہ NDMAکی جانب سے اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ہمارے صوبے کو مسلسل نظر انداز کرنے کی پالےسی واضح دشمنی اور امتےازی سلوک کے مترادف ہے ۔حالانکہ نئے خرےدے گئے وےنٹی لےٹرز مےں 200سے زائد ہمارے صوبے کا حق بنتا ہے اور اسی طرح ڈاکٹرزاور پےرامےڈےکس کےلئے مسلسل سامان دےنے کی ضرورت کو نظر انداز کےا گےا ہے ۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ صوبائی حکومت اور ان کے ادارے کرونا کی وباءکی روک تھام کےلئے اپنے پالےسی اور اقدامات کا از سر نو جائزہ لےں اور ہنگامی بنےادوں پر نئی شروعات کرےں جس مےں چمن ، لورلائی ، ژوب ، پشےن ،سبی ، خضدار، تربت اور خاران جےسے مراکز مےں PCRلےبارٹرےوں کے قےام کو فوری طور پر ےقےنی بناےا جائے اور تمام اضلاع کو ٹےسٹ کٹس بڑی تعداد مےں فراہم کرکے بڑے پےمانے پر لوگوں کے ٹےسٹ کرنے کا سلسلہ شروع کےا جائے اور مرےضوں کو عام عوام سے علےحدہ قرنطےنہ کےا جائے ، ہر ضلعی ہےڈکوارٹر اور بڑے تحصےل ہےڈکوارٹرز ہسپتالوں مےں علاج کا بندوبست کرتے ہوئے ان مےں وےنٹی لےٹرز فراہم کےئے جائےں اورڈاکٹر وپےرامےڈےکس سٹاف کو تسلسل کے ساتھ حفاظتی کٹس فراہم کےئے جائے اور فوری طور پر ہر ضلع سے قابل ڈاکٹرز ،پےرامےڈےکس سٹاف کا چناﺅ کرکے انہےں کوئٹہ مےں ہنگامی بنےادوں پر وےنٹی لےٹر آپرےٹ کرنے کی تربےت دی جائے اور لوگوں کو احتےاطی تدابےر اپنانے کےلئے ضلع اور گاﺅں کی سطح پر خصوصی مہم چلائی جائے اور انہےں احتےاطی تدابےر پر عملدرآمد کےلئے سخت اقدامات کےئے جائےںاور تمام حکومتی ادارے پہلے خود اےس او پےز پر عملدرآمد کرےں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!